المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الطِّيَرَةُ شِرْكٌ
بدشگونی لینا شرک ہے
حدیث نمبر: 43
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعْبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان ومحمد بن كثير وأبو عمر الحَوْضي، قالوا: حدثنا شعبة، أخبرني سَلَمة بن كُهَيل قال: سمعت عيسى - رجلًا من بني أَسَد - يحدّث عن زِرٍّ، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"الطِّيَرةُ شِركٌ، ولكنَّ الله ﷿ يُذهِبُه بالتوكُّل" (1) . وعيسى هذا: هو ابن عاصم الأَسَدي، كوفيٌّ ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 43 - عيسى بن أبي عاصم ثقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 43 - عيسى بن أبي عاصم ثقة
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی لینا شرک ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے (اللہ پر) توکل کے ذریعے ختم کر دیتا ہے۔“
اور یہ عیسیٰ بن عاصم الاسدی ہیں جو کوفی اور ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 43]
اور یہ عیسیٰ بن عاصم الاسدی ہیں جو کوفی اور ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 43]
حدیث نمبر: 44
حدثنا بصِحَّة ما ذكرتُه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن خَلَّاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن سلمة بن كُهَيل، عن عيسى بن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"الطِّيَرةُ من الشِّرك، وما مِنّا، ولكنَّ الله يُذهِبُه بالتوكُّل" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ سندُه، ثقاتٌ رواتُه، ولم يُخرجاه. وعيسى بن عاصم الأسدي قد روى أيضًا عن عَدِيِّ بن ثابت وغيره، وقد روى عنه شعبة وجرير بن حازم ومعاوية بن صالح وغيرهم.
هذا حديثٌ صحيحٌ سندُه، ثقاتٌ رواتُه، ولم يُخرجاه. وعيسى بن عاصم الأسدي قد روى أيضًا عن عَدِيِّ بن ثابت وغيره، وقد روى عنه شعبة وجرير بن حازم ومعاوية بن صالح وغيرهم.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی شرک میں سے ہے، اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں (جس کے دل میں کچھ نہ آئے) لیکن اللہ تعالیٰ اسے توکل کے ذریعے دور فرما دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت اور دیگر سے بھی روایات لی ہیں، اور ان سے شعبہ، جریر بن حازم اور معاویہ بن صالح وغیرہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت اور دیگر سے بھی روایات لی ہیں، اور ان سے شعبہ، جریر بن حازم اور معاویہ بن صالح وغیرہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
حدیث نمبر: 45
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب والحسين بن محمد بن زياد وأحمد بن سلمة، قالوا: حدثنا إسحاق (2) بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الحسن بن عبيد الله النَّخَعي، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"مَن حَلَفَ بغيرِ الله فقد كَفَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بمثل هذا الإسناد وخرَّجاه في الكتاب (1) ، وليس له علَّة، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرط مسلم، فقد احتجَّ بشَرِيك بن عبد الله النَّخَعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 45 - على شرطهما رواه ابن راهويه عنه هكذا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بمثل هذا الإسناد وخرَّجاه في الكتاب (1) ، وليس له علَّة، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرط مسلم، فقد احتجَّ بشَرِيك بن عبد الله النَّخَعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 45 - على شرطهما رواه ابن راهويه عنه هكذا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس جیسی سند سے احتجاج کیا ہے اور کتاب میں اس کی تخریج کی ہے، اس میں کوئی علت نہیں ہے، لیکن انہوں نے اسے (ان الفاظ کے ساتھ) روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے، کیونکہ انہوں نے شریک بن عبداللہ النخعی سے احتجاج کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 45]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس جیسی سند سے احتجاج کیا ہے اور کتاب میں اس کی تخریج کی ہے، اس میں کوئی علت نہیں ہے، لیکن انہوں نے اسے (ان الفاظ کے ساتھ) روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے، کیونکہ انہوں نے شریک بن عبداللہ النخعی سے احتجاج کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 45]