🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
وضو کی پابندی صرف مؤمن کرتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شُعْبة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو الوليد وأبو عمر ومحمد بن كَثير قالوا: حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ثَوْبانَ، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"استقيموا، ولن تُحصُوا، واعلموا أَنَّ خيرَ دينِكم الصلاةُ، ولا يحافظُ على الوُضوء إلّا مؤمن" (1) .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین پر ثابت قدم رہو (استقامت اختیار کرو) اگرچہ تم تمام اعمال کا مکمل احاطہ (یا ان کا حق ادا) نہیں کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے بہترین اعمال میں سے نماز ہے، اور وضو کی پابندی صرف مومن ہی کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 452]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 452 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين سالم بن أبي الجعد وثوبان، فإنَّ سالمًا لم يسمع منه، لكنه متابع تابعه عبد الرحمن بن ميسرة عند أحمد 37/ (22414)، وأبو كبشة السَّلولي عند أحمد أيضًا (22433)، وابن حبان (1037).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ صحیح حدیث ہے، اگرچہ سالم بن ابی الجعد اور ثوبان کے درمیان انقطاع ہے کیونکہ سالم کا ان سے سماع نہیں ہے، لیکن عبدالرحمن بن میسرہ (مسند احمد 37/ 22414) اور ابوکبشہ السلولی (مسند احمد 22433، ابن حبان 1037) نے اس کی متابعت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22378) و (22436) من طرق عن الأعمش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (37/ 22378، 22436) میں امام اعمش کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "لن تُحصُوا" أي: لن تطيقوا.
📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کے فرمان "تم احاطہ (شمار) نہیں کر سکو گے" کا مطلب ہے کہ تم (تمام نیکیوں کی) طاقت نہیں رکھ سکو گے۔