المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. لَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ
وضو کی پابندی صرف مؤمن کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 452
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شُعْبة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو الوليد وأبو عمر ومحمد بن كَثير قالوا: حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ثَوْبانَ، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"استقيموا، ولن تُحصُوا، واعلموا أَنَّ خيرَ دينِكم الصلاةُ، ولا يحافظُ على الوُضوء إلّا مؤمن" (1) .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین پر ثابت قدم رہو (استقامت اختیار کرو) اگرچہ تم تمام اعمال کا مکمل احاطہ (یا ان کا حق ادا) نہیں کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے بہترین اعمال میں سے نماز ہے، اور وضو کی پابندی صرف مومن ہی کرتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 452]
حدیث نمبر: 453
[حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة] (2) الشيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي الزُّهْري، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا الأعمش. وأخبرنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ثَوْبان قال: قال رسول الله ﷺ:"استقيموا، ولن تُحصُوا، واعلموا أن خيرَ أعمالِكم الصلاةُ، ولن يحافظَ على الوُضوءِ إلّا مؤمنٌ". وقد تابع منصورُ بن المعتمر الأعمشَ في هذه الرواية عن سالم:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے راستے پر رہو، اور تم تمام نیکیوں کا شمار نہیں کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔“
اس روایت میں منصور بن معتمر نے اعمش کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 453]
اس روایت میں منصور بن معتمر نے اعمش کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 453]
حدیث نمبر: 454
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص عن سفيان. وأخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو الفضل بن إبراهيم، حدثنا جعفر بن محمد بن الحسين، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وَكِيع، عن سفيان، عن منصور، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ثَوْبان قال: قال رسول الله ﷺ:"استقيموا، ولن تُحصُوا، واعلموا أَنَّ خير أعمالِكم الصلاةُ، ولا يحافظُ على الوُضوءِ إلّا مؤمنٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولست أعرفُ له عِلَّةً يُعلَّل بمثلها مثلُ هذا الحديث إلّا وهمٌ من أبي بلال الأشعري وَهِمَ فيه على أبي معاوية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 449 - على شرطهما ولا علة له سوى وهم أبي بلال الأشعري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولست أعرفُ له عِلَّةً يُعلَّل بمثلها مثلُ هذا الحديث إلّا وهمٌ من أبي بلال الأشعري وَهِمَ فيه على أبي معاوية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 449 - على شرطهما ولا علة له سوى وهم أبي بلال الأشعري
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استقامت اختیار کرو، اور تم اس کا احاطہ نہ کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی ہمیشگی صرف مومن ہی کرتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں اس میں کسی ایسی علت کو نہیں جانتا جو اسے کمزور کرے، سوائے ابو بلال اشعری کے وہم کے جو انہوں نے ابو معاویہ سے روایت کرنے میں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 454]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں اس میں کسی ایسی علت کو نہیں جانتا جو اسے کمزور کرے، سوائے ابو بلال اشعری کے وہم کے جو انہوں نے ابو معاویہ سے روایت کرنے میں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 454]
حدیث نمبر: 455
حدَّثَنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسين بن بشّار الخَيَّاط (2) ببغداد، حدثنا أبو بلال الأشعري، حدثنا محمد بن خازِم، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"استقيموا، ولن تُحصُوا، واعلموا أنَّ خيرَ أعمالكم الصلاةُ، ولن يُواظِبَ على الوُضوءِ إلّا مؤمن" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثابت قدم رہو، تم اس کا شمار نہ کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے بہترین اعمال میں سے نماز ہے، اور وضو پر ہمیشگی صرف مومن ہی کرتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 455]
حدیث نمبر: 456
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن زيد بن خالد الجُهَني قال: قال رسول الله ﷺ:"من توضَّأ فأحسنَ وُضوءَه، ثم صلَّى ركعتين لا يَسهُو فيهما، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبِه" (2) .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور بہترین طریقے سے وضو کیا، پھر دو رکعت نماز اس طرح پڑھی کہ ان میں (دنیا کا) کوئی خیال نہ کیا (پوری توجہ سے پڑھی)، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 456]
حدیث نمبر: 457
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أبو ثابت، حدثنا عبد العزيز، عن هشام بن سعد، فذكره نحوه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أحفظُ له علة تُوهِنُه، ولم يُخرجاه. وقد وَهِمَ محمدُ بن أَبَان على زيد بن أسلمَ في إسناد هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 452 - على شرط مسلم ولا علة له توهنه حَدَّثَنَا...
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أحفظُ له علة تُوهِنُه، ولم يُخرجاه. وقد وَهِمَ محمدُ بن أَبَان على زيد بن أسلمَ في إسناد هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 452 - على شرط مسلم ولا علة له توهنه حَدَّثَنَا...
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے اچھی طرح وضو کر کے ایسی دو رکعتیں پڑھیں جن میں سہو (غفلت) نہ ہو، تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی ایسی علت نہیں جو اسے کمزور کرے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 457]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی ایسی علت نہیں جو اسے کمزور کرے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 457]
حدیث نمبر: 458
… (3) بن صالح، حدثنا محمد بن أَبَان، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن عُقْبة بن عامرٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"من توضَّأَ فأحسنَ الوُضوءَ، ثم صلَّى ركعتين لا يَسهُو فيهما، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبِه" (1) . هذا وهمٌ من محمد بن أبان، وهو واهي الحديث غيرُ محتَجٍّ به، وقد احتَجَّ مسلمٌ بهشام بن سعد.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر دو رکعتیں اس حال میں پڑھیں کہ ان میں (کسی دنیاوی بات میں) نہ بھٹکا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ محمد بن ابان کا وہم ہے کیونکہ وہ ضعیف راوی ہے، جبکہ مسلم نے ہشام بن سعد سے احتجاج کیا ہے (جس کی روایت نمبر 456 میں گزر چکی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 458]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ محمد بن ابان کا وہم ہے کیونکہ وہ ضعیف راوی ہے، جبکہ مسلم نے ہشام بن سعد سے احتجاج کیا ہے (جس کی روایت نمبر 456 میں گزر چکی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 458]