المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. ما طلعت الشمس على رجل خير من عمر .
سورج نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی شخص پر طلوع نہیں کیا
حدیث نمبر: 4558
أخبرني محمد بن عبد الله الجَوهري، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا بِشر بن معاذ العَقَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود الواسطي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن ابن أخي محمد بن المُنكَدِر، عن عمِّه محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال عمر بن الخطاب ذاتَ يومٍ لأبي بكر الصِّدِّيق: يا خيرَ الناسِ بعدَ رسولِ الله ﷺ، فقال أبو بكر: أما إنَّكَ إنْ قلتَ ذاك، فلقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ما طلعتِ الشمسُ على رجلٍ خيرٍ مِن عُمرَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم تو یہ بات کہہ رہے ہو جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سورج کسی ایسے آدمی پر طلوع نہیں ہوا جوعمر رضی اللہ عنہ سے افضل ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4558]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4558 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن داود الواسطي وجَهالة عبد الرحمن ابن أخي ابن المنكدر، وقال العقيلي: لا يتابع على حديث ولا يُعرف إلّا به، وقال الذهبي في "تلخيصه": عبد الله ضَعّفُوه وعبد الرحمن متكلَّم فيه، والحديث شبه موضوع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن داود الواسطی کے ضعف اور عبد الرحمن ابن اخی ابن المنکدر کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیلی نے کہا: اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی اور وہ صرف اسی حدیث سے پہچانا جاتا ہے۔ حافظ ذہبی نے ”تلخیص المستدرک“ میں فرمایا: عبد اللہ کو محدثین نے ضعیف کہا ہے اور عبد الرحمن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اور یہ حدیث موضوع (من گھڑت) کے مشابہ ہے۔
وأخرجه الترمذي (3684) عن محمد بن المثنى، عن عبد الله بن داود الواسطي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (رقم: 3684) محمد بن مثنیٰ سے، انہوں نے عبد اللہ بن داود الواسطی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال: هذا حديث غريب وليس إسناده بذاك.
⚖️ درجۂ حدیث: اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند اتنی قوی نہیں ہے۔