المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
58. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضي الله - تعالى - عنه .
ذِكْرُ مَقْتَلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَنْهُ .
حدیث نمبر: 4597
حَدَّثَنَا أبو زكريا القاسم بن يحيى بن محمد، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حَدَّثَنَا داود بن رُشَيد، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِيّ، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، حدثني طارق بن شِهَاب الأحْمَسي، قال: استعمل عثمانُ بن عفّان الوليدَ بنَ عُقبة بن أبي مُعَيط - وكان أخاه لأمِّه - على الكوفة وأرضها، وبها سعدُ بن أبي وقَّاص، فقَدِمَ على سعدٍ فأجلسه معه، ولا يعلمَ بعِلْمه، ثم قال: أبا وهب: ما أقدَمَكَ؟ قال: قدمتُ عاملًا، قال: على أي شيءٍ؟ قال: على عَمَلك، فقال: والله ما أدري أكِسْتَ بعدي أم حَمُقتُ بعدَك؟ فقال: والله ما كِستُ بعدك، ولا حَمُقتَ بعدي، ولكن القومَ استأثروا عليك بسُلطانِهم، فقال: صدقتَ، ثم قال سعد: خُذِيني فجُرِّيني ضِباعُ وأَبشِري … بلحمِ امرئٍ لم يَشهدِ اليومَ ناصِرُهْ (1) أيا عُمَراه! ضِباعُ الشرِّ (2) . قال الهيثم: ولمَّا عَزل عثمانُ الوليد بنَ عُقبة عن الكوفة وولّاها سعيدَ بنَ العاص، قال الهيثمُ: فحدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي، قال: لما قدم سعيدُ بن العاص قال: اغسِلوا المنبرَ لأصعَد عليه أو يُطهَّر، فغَسِل المنبر حتَّى صَعِدَ سعيد بن العاص (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4547 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4547 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
طارق بن شہاب الاحمسی کا بیان ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا، یہ آپ کے اخیافی بھائی تھے، وہاں پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ان کو اپنے پاس بٹھا لیا، اور وہ ان کی موجودہ حیثیت سے واقف نہ تھے بولے: اے ابووہب! تم یہاں کیسے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں حاکم بن کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: کس چیز پر؟ اس نے کہا: تمہارے اعمال پر۔ آپ نے کہا: خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تو مجھ سے زیادہ ذہین ہے یا میں تجھ سے زیادہ احمق ہوں۔ اس نے کہا: خدا کی قسم! (ایسی بات نہیں ہے) بلکہ لوگوں نے اپنی طاقت کی وجہ سے تجھ پر غلبہ پایا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو، پھر سیدنا سعد نے یہ اشعار پڑھے۔ مجھے ضباع کی حدیث بیان کر اور اس نے ایک آدمی کا گوشت خریدا، کاش کہ آج اس کا مددگار موجود ہوتا اے عمر ضباع کے شر پر مجھے افسوس ہے۔ ہیثم کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول کیا اور ان کی جگہ سیدنا سعید بن العاص کو حاکم بنایا تو ہیثم کہتے ہیں: اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب سعید بن العاص آئے تو انہوں نے کہا: منبر کو دھوؤ تاکہ میں اس پر چڑھوں، تو منبر دھویا گیا تب سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4597]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4597 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في هذا البيت في نسخ "المستدرك" تحريفات تم تصويبها من "الأغاني" لأبي الفرج الأصبهاني 5/ 136، والبيت للنابغة الجعدي، تمثّل به سعد بن أبي وقاص.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ”المستدرک“ کے نسخوں میں اس شعر میں تحریفات واقع ہوئی تھیں جن کی تصحیح ابو الفرج اصفہانی کی ”الاغانی“ (5/ 136) سے کی گئی ہے۔ یہ شعر نابغہ الجعدی کا ہے جسے سعد بن ابی وقاص نے بطور مثال پڑھا تھا۔
(2) إسناده تالف من أجل الهيثم بن عدي فهو متهم بالكذب، وقد رُوي الخبر من غير طريقه مختصرًا بذكر تولية عثمانَ الوليدَ بن عقبة مكان سعد، وقول سعد للوليد: أكِسْتَ بعدي أو استَحمقتُ بعدك، دون سائر الخبر، وروى ابن إسحاق عند ابن عساكر مرسلًا جوابَ الوليد لسَعْدٍ، دون ذكر البيت الذي تمثَّل به سعدٌ.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ہیثم بن عدی کی وجہ سے ”تالف“ (بیکار) ہے، کیونکہ وہ جھوٹ کے ساتھ متہم ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ خبر ان کے علاوہ دوسرے طریق سے مختصراً مروی ہے جس میں عثمان کا ولید بن عقبہ کو سعد کی جگہ والی بنانا، اور سعد کا ولید سے کہنا: ”کیا تم میرے بعد عقلمند ہو گئے یا میں تمہارے بعد بے وقوف ہو گیا“ مذکور ہے، باقی خبر نہیں۔ اور ابن اسحاق نے ابن عساكر کے ہاں ولید کا سعد کو جواب مرسلاً نقل کیا ہے، بغیر اس شعر کے جو سعد نے پڑھا تھا۔
وأخرجه كذلك ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 63/ 236 - 237 من طريق أبي حمزة السّكري محمد بن ميمون، و 63/ 237 من طريق إبراهيم بن حميد الرؤاسي، كلاهما عن إسماعيل بن أبي خالد، عن طارق بن شهاب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساكر نے ”تاریخ دمشق“ (63/ 236-237) میں ابو حمزہ السکری محمد بن میمون کے طریق سے، اور (63/ 237) میں ابراہیم بن حمید الرؤاسی کے طریق سے، ان دونوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے۔
(3) إسناده تالف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند بھی پچھلی سند کی طرح ”تالف“ (بیکار) ہے۔
وقد ذكر ابن سعدٍ هذه القصة في "طبقاته الكبرى" 7/ 37 بغير إسناد، ومن طريقه ابن عساكر 21/ 114، وصدّرها ابن سعد بقوله: قالوا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن سعد نے یہ قصہ ”الطبقات الکبری“ (7/ 37) میں بغیر سند کے ذکر کیا ہے، اور ان کے طریق سے ابن عساکر (21/ 114) نے نقل کیا ہے۔ ابن سعد نے اسے ”قالوا“ (انہوں نے کہا) کے الفاظ سے شروع کیا ہے۔