🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. الدفع عمن قعدوا عن بيعة على - رضى الله عنه - .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ جانے والوں کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4647
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا شَريك، عن أُمَيٍّ الصَّيرَفي، عن أبي قَبيصة عمر بن قَبيصة، عن طارق بن شِهَاب قال: رأيتُ عَليًّا عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ بالرَّبَذة، وهو يقول للحسن والحسين: ما لكما تَخِنّان خَنِينَ (1) الجاريةِ، والله لقد ضربتُ هذا الأمرَ ظهرًا لِبَطنٍ، فما وجدتُ بُدًّا من قِتال القوم، أو الكُفرِ بما أُنزل على محمد ﷺ (2) . فأما عبد الله بن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4597 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا طارق بن شہاب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روئی کے بوسیدہ گالوں کے پالان میں دیکھا وہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے فرما رہے تھے: تمہیں کیا ہے؟ تم لڑکیوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟ خدا کی قسم میں نے اس معاملہ میں بہت غور و فکر کیا ہے۔ میرے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ (1) اس قوم سے جہاد کروں۔ (2) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ (دین) کا انکار کر دوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4647]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4647 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في المطبوع: تَحِنان حَنين، بالمهملة بدل الخاء المعجمة، وكأنها كذلك في (ص) و (م)، لكنها أُعجمت في (ز) و (ب) بالخاء المعجمة، وهو ضربٌ من البكاء دون الانتحاب، وأصله خروج الصوت من الأنف، وبعضهم يجعل الحنين والخنين واحدًا.
📝 نوٹ / توضیح: (1) مطبوعہ میں ”حنین“ (حائے مہملہ) ہے، لیکن نسخہ (ز) اور (ب) میں ”خنین“ (خائے معجمہ) ہے، جو رونے کی ایک قسم ہے جس میں آواز ناک سے نکلتی ہے۔ بعض کے نزدیک حنین اور خنین ایک ہی ہیں۔
(2) خبر حسن لكن بذكر الحَسن بن علي دون أخيه الحُسين، كما جاء في رواية غير المصنّف، وأبو قبيصة عمر بن قَبيصة هكذا وقع مسمَّى في هذه الرواية عمر، وإنما هو صفوان بن قَبيصة، كما في رواية جعفر بن زياد الأحمر عن أُمَيٍّ الصَّيرفي لهذا الخبر، وكذلك سمّاه كل من ترجم له كالبخاري وابن أبي حاتم وابن حبان في "الثقات"، وكذلك سمّاه أبو الخطاب الهجري وكثير أبو إسماعيل النواء إذ رويا عنه بعض الأخبار، وأغلب الظن أنَّ الوهم هنا في تسميته من جهة شريك - وهو عبد الله النخعي - فقد روى هذا الخبر عن شريك عبدُ الله بن صالح العِجْلي الكوفي عند البلاذُري في "أنساب الأشراف" 3/ 33، فسماه عَمرو بن قبيصة، بزيادة الواو، فدلَّ على أن شريكًا لم يضبط اسمه، وصفوان بن قبيصة هذا روى عنه أيضًا غير الذين تقدم ذكرهم ضِرارُ بن مرة، فبرواية هؤلاء مع ذكر ابن حبان له في "الثقات" يحتمل حديثه التحسين.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر حسن ہے، لیکن حسین کی بجائے حسن بن علی کے ذکر کے ساتھ (جیسا کہ دوسری روایات میں ہے)۔ اس روایت میں نام ”عمر بن قبیصہ“ آیا ہے، جبکہ درست ”صفوان بن قبیصہ“ ہے، جیسا کہ جعفر بن زیاد الاحمر کی روایت میں ہے۔ بخاری، ابن ابی حاتم اور ابن حبان نے بھی صفوان ہی نام لکھا ہے۔ غالب گمان ہے کہ وہم شریک (عبد اللہ النخعی) کی طرف سے ہے۔ عبد اللہ بن صالح العجلی نے شریک سے روایت میں اسے ”عمرو بن قبیصہ“ کہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ شریک کو نام یاد نہیں رہا۔ صفوان بن قبیصہ سے ضرار بن مرہ نے بھی روایت کی ہے، لہٰذا ابن حبان کی توثیق کے ساتھ ان کی حدیث تحسین کا احتمال رکھتی ہے۔
وقد روى هذا الخبر عن أُمَيٍّ الصيرفي أيضًا سفيان بن عيينة غير أنه لم يُسمِّ صفوان بن قبيصة، بل أبهمه، ووصفه بأنه رجل من بَجيلة وأنه كان رضيعًا للقَسْري، وهذا هو نفسه صفوان، لأنَّ كثيرًا النواء وأبا الخطاب الهجري نسباه أحمسيًا وأحمسُ من بَجِيلة.
🧩 متابعات و شواہد: یہ خبر امی الصیرفی سے سفیان بن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، مگر انہوں نے صفوان کا نام نہیں لیا بلکہ اسے مبہم رکھا اور بجیلہ کا ایک آدمی اور القسری کا رضاعی بھائی کہا۔ یہ صفوان ہی ہیں کیونکہ دیگر راویوں نے انہیں ”احمسی“ کہا ہے اور احمس بجیلہ سے ہے۔
وما علَّقه ابن حبان في "الثقات" من قوله: إن كان سمع من طارق فهو مدفوع برواية ابن عيينة المذكورة، فقد جاء فيها أنه سمع طارق بن شهاب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن حبان کا ”الثقات“ میں یہ کہنا کہ ”اگر اس نے طارق سے سنا ہو“، یہ شک ابن عیینہ کی روایت سے دور ہو جاتا ہے جس میں تصریح ہے کہ اس نے طارق بن شہاب سے سنا ہے۔
هذا ولم ينفرد صفوان بن قبيصة بهذا الخبر، بل تابعه على روايته قيس بن مسلم الجَدَلي، وهو ثقة، ولكنه لم يذكر فيه قول علي بن أبي طالب: والله لقد ضربتُ هذا الأمر ظهرًا لبطن .... إلخ، وإنما جاء في روايته بدلًا من ذلك مقالة أخرى لعليٍّ.
🧩 متابعات و شواہد: صفوان بن قبیصہ اس خبر میں منفرد نہیں، بلکہ قیس بن مسلم الجدلی (جو ثقہ ہیں) نے ان کی متابعت کی ہے، لیکن انہوں نے علی کا یہ قول ”میں نے اس معاملے کو الٹ پلٹ کر دیکھا...“ ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کی جگہ کوئی اور بات ذکر کی ہے۔
لكن يشهد لرواية صفوان بن قبيصة في مقالة عليٍّ التي هنا شواهد كما سيأتي.
🧩 متابعات و شواہد: لیکن صفوان بن قبیصہ کی روایت میں علی کے قول کے شواہد موجود ہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه البلاذُري في أنساب الأشراف" 3/ 33 من طريق يحيى بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بلاذری (3/ 33) نے یحییٰ بن عبد الحمید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويحيى - وهو الحِمّاني - وإن كان فيه ضعف، يُعتبر به في المتابعات والشواهد.
⚖️ درجۂ حدیث: یحییٰ (الحمانی) اگرچہ ان میں ضعف ہے، لیکن متابعات اور شواہد میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
وأخرجه أبو الحسن الحمامي في "جزء الاعتكاف" ضمن مجموع فيه مصنفاته وأجزاء أخرى (36) من طريق إسماعيل بن موسى الفزاري، عن شريك النخعي، به. مختصرًا بمقالة عليٍّ آخر الخبر هنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الحسن الحمامی نے ”جزء الاعتکاف“ (36) میں اسماعیل بن موسیٰ الفزاری کے طریق سے، انہوں نے شریک النخعی سے مختصراً روایت کیا ہے، جس میں صرف علی کا قول مذکور ہے جو یہاں خبر کے آخر میں ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 274، والبخاري في "تاريخه الكبير" 4/ 309، وعمر بن شبّة في "تاريخ المدينة" 4/ 1257 من طريق جعفر بن زياد، عن أُمَيٍّ الصَّيرفي، به. وذكر قصةً مطولةً، وجعفر صدوق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (15/ 274)، بخاری نے ”تاریخ کبیر“ (4/ 309) میں اور عمر بن شبہ نے ”تاریخ المدینہ“ (4/ 1257) میں جعفر بن زیاد کے طریق سے امی الصیرفی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور طویل قصہ ذکر کیا ہے۔ جعفر ”صدوق“ ہیں۔
وأخرجه يعقوب بن سفيان في المعرفة 2/ 678 - 688، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه الكبير" (3777) من طريق سفيان بن عيينة، عن أُمَيٍّ الصيرفي، عن رجل من بجيلة كان رضيعًا للقسري، عن طارق بن شهاب، به. فأُبهم في هذه الرواية ذكر صفوان بن قَبيصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے یعقوب بن سفیان نے ”المعرفۃ“ (2/ 678-688) میں اور ابن ابی خیثمہ نے ”تاریخ کبیر“ (3777) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے امی الصیرفی سے، انہوں نے بجیلہ کے ایک آدمی سے (جو قسری کا رضاعی بھائی تھا)، انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے۔ اس روایت میں صفوان بن قبیصہ کا ذکر مبہم رکھا گیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 99، وابنُ شَبّة 4/ 1256، وابن أبي خَيثمة (3775) و (3776)، وابنُ عساكر 42/ 456 من طريق قيس بن مسلم الجَدَلي، عن طارق بن شهاب، به فذكر القصة بنحو رواية جعفر بن زياد عن أُمَيٍّ، لم يذكر مقالة عليٍّ التي في آخر الخبر هنا أنه لم يجد بدًّا من قتال القوم أو الكفر بما أنزل على محمد ﷺ، لكن يشهد لمقالة عليٍّ هذه ما أخرجه أبو نُعيم في "تثبيت الإمامة" (189)، وابنُ عساكر 42/ 439 من طريق يحيى بن هانئ بن عروة المرادي، والبخاري في "تاريخه الكبير" 1/ 36، وابن عساكر 42/ 473 من طريق مازن بن عبد الله العائدي، وفي إسنادهما مقالٌ لكنها يصلحان للمتابعة، فيعضدان رواية أبي قبيصة صفوان بن قبيصة، ويعتضدان بها، وجاء في رواية جعفر بن زياد المتقدمة وكذلك في رواية يحيى بن هانئ المرادي بيان لحجّة عليٍّ ﵁ في قوله: أو الكفر بما أُنزل على محمد ﷺ، أنه بسبب نكث الناكثين لبيعته بعد أن بايعوه طائعين غير مُكرهين، قلنا: وكأنه يشير إلى قوله تعالى: ﴿فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ الله﴾، وهذا أولى في الحمل عليه من قول ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 535 حيث قال: يعني عليٌّ - والله أعلم - قوله تعالى: ﴿وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ﴾ وما كان مثله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (15/ 99)، ابن شبہ (4/ 1256)، ابن ابی خیثمہ (3775، 3776) اور ابن عساكر (42/ 456) نے قیس بن مسلم الجدلی کے طریق سے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے جعفر بن زیاد عن امی کی روایت کی طرح قصہ بیان کیا، لیکن علی کا وہ قول ذکر نہیں کیا جو یہاں خبر کے آخر میں ہے (کہ مجھے ان لوگوں سے لڑنے یا محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت کے کفر میں سے کسی ایک کو چننا پڑا)۔ 🧩 متابعات و شواہد: تاہم علی کے اس قول کی تائید اس سے ہوتی ہے جسے ابو نعیم نے ”تثبیت الامامۃ“ (189) اور ابن عساکر (42/ 439) نے یحییٰ بن ہانی کے طریق سے؛ اور بخاری نے ”تاریخ کبیر“ (1/ 36) اور ابن عساکر (42/ 473) نے مازن بن عبد اللہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ان دونوں کی سند میں کلام ہے لیکن متابعت کے لیے موزوں ہیں۔ یہ روایات صفوان بن قبیصہ کی روایت کو تقویت دیتی ہیں اور اس سے تقویت لیتی ہیں۔ جعفر بن زیاد کی روایت اور یحییٰ بن ہانی کی روایت میں علی کی حجت کا بیان ہے کہ انہوں نے ”محمد ﷺ پر نازل شدہ کا کفر“ اس لیے کہا کیونکہ بیعت کرنے والوں نے اپنی مرضی سے بیعت کے بعد اسے توڑ دیا تھا۔ ہم کہتے ہیں: گویا وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ الله) کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ یہ ابن عبد البر (الاستیعاب: 535) کے اس قول سے زیادہ بہتر محمل ہے کہ علی کی مراد (وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ) جیسی آیات تھیں۔
قوله: ضربتُ هذا الأمر ظهرًا لبطن، أي: اختبرتُه ونظرت في تدبيره.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول ”ضربتُ هذا الأمر ظهرًا لبطن“ کا مطلب ہے: میں نے اس معاملے کو اچھی طرح جانچا اور اس کی تدبیر پر غور کیا۔