🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. الدفع عن محمد بن مسلمة .
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4655
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثني إبراهيم بن جعفر الأنصاري، حدثني سليمان بن محمود، من ولد محمد بن مَسلَمة الأنصاري، عن سعد بن زيد بن سعد الأشهلي: أنه أَهدَى إلى رسولِ الله ﷺ سيفًا من نَجْران، فلما قَدِم عليه أعطاهُ محمدَ بنَ مسلمة، وقال:"جاهِدْ بهذا في سبيل الله، فإذا اختلَفتْ أعناقُ الناس فاضرِبْ به الحَجَرَ، ثم ادخُل بيتَك، وكن حِلْسًا مُلقًى، حتى تَقتُلَك يدٌ خاطئةٌ أو تأتيَك مَنيَّةٌ قاضيةٌ" (1) . قال الحاكم: فبهذِه الأسبابِ وما جانسها كان اعتزالُ من اعتزل عن القتال مع عليّ ﵁، وبضدّها كان قتالُ مَن قاتَلَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعد بن زید بن سعد الاشہلی نے نجران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تلوار ہدیہ بھیجی۔ جب یہ تلوار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے یہ تلوار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا کی اور فرمایا: اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو لیکن جب لوگوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو اس کو پتھروں پر مار کر اپنے گھر میں جا کر بیٹھ جانا حتی کہ تجھے کوئی خطا کرنے والا ہاتھ قتل کر دے یا تجھے قضائے الٰہی سے موت آ جائے۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: یہی اور اس سے ملتی جلتی کچھ دیگر وجوہات تھیں جن کی بناء پر کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قتال میں شریک ہو گئے اور کچھ لوگ آپ کے ہمراہ قتال سے کنارہ کش رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4655]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4655 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل سليمان بن محمود - وهو سليمان بن محمد بن محمود بن محمد بن مسلمة - فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وبهذا الإسناد أثبت غيرُ واحدٍ من أهل النقد صحبةَ سعد بن زيد بن سعد الأشهلي، منهم أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنُه في "الجرح والتعديل" 4/ 83.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ان شاء اللہ ”حسن“ ہے، سلیمان بن محمود (جو کہ سلیمان بن محمد بن محمود بن محمد بن مسلمہ ہیں) کی وجہ سے۔ ان سے دو راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے۔ اور اسی سند کے ساتھ اہل نقد (محدثین) کی ایک جماعت نے سعد بن زید بن سعد الاشہلی کی صحابیت کو ثابت کیا ہے، ان میں سے ابو حاتم رازی ہیں جیسا کہ ان کے بیٹے نے ان سے ”الجرح والتعدیل“ (4/ 83) میں نقل کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 48، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 282 وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (949)، والطبراني في "الكبير" (5424)، وفي "الأوسط" (2375)، وأبو نعيم الأصبهاني في "معرفة الصحابة" (3161)، وابن عساكر 55/ 282 من طرق عن عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے ”التاریخ الکبیر“ (4/ 48) میں، یعقوب بن سفیان نے ”المعرفۃ والتاریخ“ (1/ 282) میں، ابو القاسم البغوی نے ”معجم الصحابہ“ (949) میں، طبرانی نے ”الکبیر“ (5424) اور ”الاوسط“ (2375) میں، ابو نعیم الاصبہانی نے ”معرفۃ الصحابہ“ (3161) میں، اور ابن عساکر نے (55/ 282) میں متعدد طرق سے عبد اللہ بن عبد الوہاب الحجبی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: اور اس سے پہلے والا دیکھیں۔
قوله: "كن حِلْسًا مُلقًى" أي: الزَم بيتك لُزوم البِسَاط، لأنَّ الحلس هو بساط يُبسط في البيت.
📝 نوٹ / توضیح: قول: ”کُن حِلساً مُلقًی“ یعنی: اپنے گھر کو ایسے لازم پکڑ لو جیسے بچھونا (گھر کو لازم پکڑتا ہے)، کیونکہ حلس وہ بچھونا (ٹاٹ) ہے جو گھر میں بچھایا جاتا ہے۔
(1) في (ز) و (ب): قاتله.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں: ”قاتلہ“ (اس نے اسے قتل کیا) ہے۔