🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. إذا غضب النبى لم يجترئ أحد يكلمه غير على .
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4697
حدثنا مُكرَم بن أحمد بن مُكرَم القاضي، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيَالسي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا حُسين الأشقَر، حدثنا جعفر بن زياد الأحمر، عن مُخَوَّل، عن مُنذِر الثَّوْري، عن أم سلمة: أنَّ النبي ﷺ كان إِذا غَضِبَ لم يَجترئ أحدٌ منا يُكلِّمُه غيرُ عليّ بن أبي طالب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4647 - الأشقر وثق وقد اتهمه ابن عدي وجعفر تكلم فيه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غصہ کے عالم میں ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4697]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4697 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بمرّة من أجل الحُسين الأشقر - وهو ابن الحَسَن - فهو ليس بالقوي كما سبق قريبًا، ومنذرٌ الثوري - وهو ابن يعلى - شكّك ابن حبان في "الثقات" 5/ 421 في سماعه من أم سلمة، وجزمَ الهيثميُّ في "مجمع الزوائد" 9/ 116 بأنه منقطع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے، جس کی وجہ حسین الاشقر (ابن الحسن) ہے جو قوی نہیں ہے جیسا کہ ابھی گزرا۔ اور منذر الثوری (ابن یعلیٰ) ہے جس کے ام سلمہ سے سماع کے بارے میں ابن حبان نے "الثقات" (5/ 421) میں شک ظاہر کیا ہے، اور ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (9/ 116) میں یقین سے کہا ہے کہ یہ "منقطع" ہے۔
وأخرجه البلاذري في "أنساب الأشراف" 2/ 355 عن إسحاق بن أبي إسرائيل، عن يحيى بن مَعِين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بلاذری نے "انساب الاشراف" (2/ 355) میں اسحاق بن ابی اسرائیل سے، انہوں نے یحییٰ بن معین سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4314)، وعنه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 9/ 227 من طريق أحمد بن حنبل، عن الحُسين بن الحَسن الأشقر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (4314) میں، اور ان سے ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" (9/ 227) میں احمد بن حنبل کے طریق سے، انہوں نے حسین بن الحسن الاشقر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔