🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. إذا غضب النبى لم يجترئ أحد يكلمه غير على .
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4701
كما حدثنا به الثقةُ المأمونُ أبو القاسم الحسن بن محمد بن الحَسَن (2) ابن إسماعيل بن محمد بن الفضل بن عُقبة (3) بن خالد السَّكُوني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا عُبيد بن كَثير العامري، حدثنا عبد الرحمن بن دُبَيس. وحدثنا أبو القاسم، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان بن صالح؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن ثابت البصري القَصّار، حدثنا ثابت البُناني: أنَّ أنس بن مالك كان شاكيًا، فأتاهُ محمد بن الحجّاج يعودُه في أصحاب له، فجرى الحديثُ حتى ذكَروا عليًّا، فتنقَّصَه محمدُ بن الحجاج، فقال أنسٌ: مَن هذا؟ أقعِدُوني، فأقعدُوه، فقال: يا ابنَ الحجّاج، ألا أراكَ تَنَقَّصُ عليَّ بن أبي طالب، والذي بعث محمدًا ﷺ بالحقِّ، لقد كنتُ خادمَ رسولِ الله ﷺ بين يدَيه، وكان كلَّ يومٍ يَخدُم بين يدَي رسولِ الله ﷺ غُلامٌ من أبناء الأنصار، فكان ذلك اليومُ يومي، فجاءت أمُّ أيمنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ بطَيرٍ، فوضعتْه بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا أمَّ أيمنَ، ما هذا الطائرُ؟" قالت هذا الطائرُ أصبتُه فصنعتُه لك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ جِئْني بأحبِّ خَلقِكَ إليكَ وإليّ يأكلْ معي من هذا الطائر"، وضُربَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِب البابُ، فقال:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب، قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِبَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، اذهَبْ فأدخِلْه، فلستَ بأولِ رجلٍ أحبَّ قومَه، ليس هو من الأنصار" فذهبتُ فأدخلتُه، فقال:"يا أنسُ قَرِّبْ إليه الطيرَ" قال: فوَضَعتُه بين يدَي رسول الله ﷺ، فأكلا جميعًا. قال محمد بن الحجّاج: يا أنسُ، كان هذا بمَحضَرٍ منك؟ قال: نعم، قال: أُعطي باللهِ عهدًا ألّا أنتقِصَ عليًّا بعد مَقامي هذا، ولا أَسمع أحدًا يَنتقِصُه إلَّا أشَنْتُ له وَجْهَهُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4651 - إبراهيم بن ثابت ساقط
سیدنا ثابت البنانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ محمد بن حجاج اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ان کی عیادت کے لئے آیا، دوران گفتگو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ چل نکلا تو محمد بن حجاج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ پھر فرمایا: مجھے بٹھاؤ، لوگوں نے ان کو بٹھا لیا۔ تو آپ بولے: اے ابن حجاج میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کر رہے ہو، اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا کیونکہ ہر دن کوئی نہ کوئی انصاری لڑکا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری انجام دیا کرتا تھا۔ ایک دن میری باری تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ باندی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت میں ایک (بھنا ہوا) پرندہ لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ام ایمن! یہ پرندہ کہاں سے آیا؟ انہوں نے عرض کی: یہ میں نے شکار کیا تھا اور آپ کے لئے بھون کر لائی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: یا اللہ! میرے پاس ایسے آدمی کو بھیج دے جو تجھے ساری دنیا سے زیادہ پیارا ہو اور مجھے بھی۔ اور میرے ہمراہ یہ پرندہ کھائے (اسی وقت) دروازے پر دستک ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟ میں نے دعا مانگی اللہ کرے یہ کوئی انصاری آدمی ہو میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں (یہ کہہ کر) میں آ کر اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دوبارہ دروازہ بجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟ میں پھر یہی دعا مانگ رہا تھا کہ اللہ کرے یہ کوئی انصاری شخص ہو۔ جب میں نے جا کر دروازہ کھولا تو (اب بھی) سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے پھر یہی کہہ دیا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں۔ میں پھر اپنی جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ پھر دروازے پر دستک ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! جاؤ، ان کو اندر لے کر آؤ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں کوئی پہلا شخص نہیں تھا جو اپنے قبیلے سے محبت رکھتا تھا (بلکہ ہر شخص کو اپنے قبیلے، برادری سے محبت ہوتی ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ انصار میں سے نہ تھے۔ خیر، میں دروازے پر گیا اور ان کو اندر لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! پرندہ پیش کرو، (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں نے وہ پرندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور ان دونوں نے مل کر اس کو تناول فرمایا۔ محمد بن الحجاج نے کہا: اے انس رضی اللہ عنہ! یہ سب معاملہ تمہاری موجودگی میں ہوا تھا؟ نہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں آج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی نہیں کروں گا بلکہ کسی کے بارے میں مجھے پتا چلا کہ اس نے ان کی شان میں گستاخی کی ہے تو میں اس کو بھی سزا دوں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4701]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4701 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ب) إلى: الحسين، وجاء على الصواب في (م).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے، جبکہ نسخہ (م) میں درست آیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: علية.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "علیہ" بن گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن ثابت القصّار - وبعضهم سمّى أباه بابًا بدل ثابت - قال عنه الذهبي في "الميزان": ما ذا بعُمدةٍ ولا أعرف حاله جيدًا. وقال في "تلخيص المستدرك": ساقطٌ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابراہیم بن ثابت القصار ہے (بعض نے اس کے باپ کا نام ثابت کے بجائے 'باب' لکھا ہے)۔ ذہبی نے "المیزان" میں اس کے بارے میں کہا: "یہ کوئی عمدہ راوی نہیں اور میں اس کا حال اچھی طرح نہیں جانتا"۔ اور "تلخیص المستدرک" میں اسے "ساقط" (گرے ہوئے درجے کا) کہا۔
وأخرجه العقيلي في "الضعفاء" (41) عن موسى بن إسحاق الأنصاري، عن عبد الله بن عمر بن أبان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عقیلی نے "الضعفاء" (41) میں موسیٰ بن اسحاق الانصاری سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر بن ابان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ثم قال: ليس لهذا الحديث من حديث ثابتٍ أصلٌ، وقد تابع هذا الشيخَ مُعلَّى بنُ عبد الرحمن، فرواه عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس؛ حدَّثَناه الصائغ، عن الحسن بن علي الحُلواني، عنه. ومُعلَّى عندهم يكذب، ولم يأتِ به ثقة عن حماد بن سلمة، ولا عن ثقة عن ثابت.
📌 اہم نکتہ: پھر (عقیلی نے) کہا: ثابت کی حدیث سے اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اس شیخ کی متابعت معلی بن عبدالرحمن نے کی ہے، اور اسے حماد بن سلمہ عن ثابت عن انس سے روایت کیا۔ لیکن محدثین کے نزدیک معلی "جھوٹ بولتا ہے"، اور حماد بن سلمہ سے کوئی ثقہ راوی اسے نہیں لایا، اور نہ ہی ثابت سے کوئی ثقہ راوی لایا ہے۔
ثم قال: وهذا الباب الروايةُ فيه فيها لِينٌ وضعفٌ، لا أعلم فيه شيء ثابت، وهكذا قال البخاري.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: پھر فرمایا: اس باب میں جتنی روایات ہیں ان میں "لین" اور ضعف ہے، میں کسی ایسی چیز کو نہیں جانتا جو ثابت ہو، اور ایسا ہی بخاری نے کہا ہے۔
No matching content found
📝 نوٹ / توضیح: کوئی مواد نہیں ملا۔