المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
123. مبغض أهل بيت محمد يدخل النار ولو صلى وصام .
اہلِ بیت سے بغض رکھنے والا آگ میں داخل ہوگا اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے
حدیث نمبر: 4764
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا تَليد بن سليمان، حدثنا أبو الجَحَّاف، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: نَظَرَ النبيُّ ﷺ إلى عليّ وفاطمة والحسنِ والحسينِ فقال:"أنا حَرْبٌ لمن حارَبَكُم، وسِلْمٌ لمن سَالَمكُم" (1) .
هذا حديث حسنٌ من حديث أبي عبد الله أحمد بن حنبل عن تَلِيد بن سليمان، فإني لم أجد له روايةً غيرَها. وله شاهدٌ عن زيد بن أرقَمَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث حسنٌ من حديث أبي عبد الله أحمد بن حنبل عن تَلِيد بن سليمان، فإني لم أجد له روايةً غيرَها. وله شاهدٌ عن زيد بن أرقَمَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کی جانب دیکھ کر فرمایا: میں تمہارے دشمن کا دشمن ہوں اور تمہارے دوست کا دوست ہوں۔ ٭٭ ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو تلید بن سلیمان سے روایت کیا ہے اور اس طریق سے یہ حدیث حسن ہے اور مجھے اس ایک حدیث کے علاوہ ان کی کوئی دوسری حدیث نہیں ملی۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4764]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4764 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف من أجل تَلِيد بن سُليمان، فهو رافضي، وقد ضعّفه الأكثرون وكذّبه جماعةٌ من الأئمة. وقال المصنِّف نفسُه في "المدخل إلى الصحيح" (29): رديء المذهب منكر الحديث، روى عن أبي الجحّاف أحاديث موضوعة، كذّبه جماعة من أئمتنا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد تلید بن سلیمان کی وجہ سے "تالف" (برباد) ہے؛ وہ "رافضی" ہے۔ اکثر محدثین نے اسے ضعیف کہا اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ خود مصنف (حاکم) نے "المدخل الی الصحیح" (29) میں فرمایا: "یہ برے مذہب والا اور منکر الحدیث ہے، اس نے ابو الجحاف سے موضوع احادیث روایت کیں، ہمارے ائمہ کی ایک جماعت نے اس کی تکذیب کی ہے"۔
وهو في "مسند أحمد" 15 / (9698).
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ روایت "مسند احمد" (15/ 9698) میں موجود ہے۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ: ما بعد ملاحظہ کریں۔