المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
134. إذا سافر النبى كان آخر الناس عهدا به فاطمة .
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر جاتے تو سب سے آخر میں جس سے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں
حدیث نمبر: 4791
حدثنا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرم ابن أخي الحسن بن مُكرَم البَزّاز ببغداد، حدثنا مُسلم بن عيسى الصَّفّار العسكري، حدثنا عبد الله بن داود الخُرَيبي، حدثنا شهاب بن حَرْب عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ:"ليلة أُسريَ بي أتاني جبريل ﵇ بسَفَرجَلةٍ من الجنة، فأكلتُها، فعَلِقَتْ خديجة بفاطمة، فكنتُ إذا اشتقتُ إلى رائحة الجنةِ شَمَمْت رقبة فاطمة" (1) .
هذا حديث غريب الإسناد والمتن، وشهابُ بن حَرْب مجهولٌ، والباقون من رواته ثِقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4738 - من وضع مسلم بن عيسى الصفار
هذا حديث غريب الإسناد والمتن، وشهابُ بن حَرْب مجهولٌ، والباقون من رواته ثِقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4738 - من وضع مسلم بن عيسى الصفار
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس جنت کا ایک پھل لائے، میں نے اس کو کھایا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس (کا باقی ماندہ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں ڈال دیا تھا، چنانچہ مجھے جب بھی جنت کی خوشبو سونگھنے کا شوق ہوتا تو میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گلا سونگھ لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب الاسناد والمتن ہے اور شہاب بن حرب مجہول راوی ہیں تاہم اس کے علاوہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4791]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4791 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر موضوع، فإن مسلم بن عيسى الصَّفّار متروك الحديث كما قال الدارقطني، وجزم الذهبي في "تلخيصه" بأنه هو من وضع هذا الحديث على الخُريبيِّ. قلنا: وشهاب بن حرب لا يُعرف إلا في هذا الحديث، فهو مجهول كما قال المصنف، ولم يُصِب إذ زعم أن باقي رواة هذا الحديث ثقات، لقول الدارقطني في مسلم بن عيسى الصَّفّار بأنه متروك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "موضوع" (من گھڑت) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "مسلم بن عیسیٰ صفار" متروک الحدیث ہے جیسا کہ دارقطنی نے کہا، اور ذہبی نے "تلخیص" میں یقین سے کہا کہ اسی نے یہ حدیث خریبی پر گھڑی ہے۔ (محقق کہتے ہیں:) اور "شہاب بن حرب" صرف اسی حدیث میں پہچانا جاتا ہے، لہٰذا وہ "مجہول" ہے جیسا کہ مصنف نے کہا۔ لیکن مصنف کا یہ کہنا درست نہیں کہ باقی راوی ثقہ ہیں، کیونکہ دارقطنی نے مسلم بن عیسیٰ کو متروک قرار دیا ہے۔
وقد أورد ابن الجوزي في "الموضوعات" (764 - 770) طرق هذا الحديث عن جماعة من الصحابة، وأعلها جميعًا مبينًا أنه لا طريق منها إلا وفيها كذاب أو رجلٌ معروف بسرقة الحديث أو رجلٌ متروكٌ يُدخل عليه ما ليس من حديثه فلا يتنبه. وخلص إلى القول بأنَّ هذا حديث موضوع لا يشكُ المبتدئ في العلم في وضعه، قال: ولقد كان الذي وضعه أجهل الجُهّال بالنقل والتاريخ، فإنَّ فاطمة ولدت قبل النبوة بخمس سنين، وقد تلقفته منه جماعة أجهل منه فتعددت طرقه، وذِكْرُه الإسراء كان أشدَّ لفضيحته، فإنَّ الإسراء كان قبل الهجرة بسنة بعد موت خديجة ....
📌 اہم نکتہ: ابن الجوزی نے "الموضوعات" (764-770) میں اس حدیث کے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی طرق ذکر کیے ہیں اور سب پر علت لگائی ہے کہ ہر طریق میں کوئی کذاب، یا حدیث چور، یا ایسا متروک راوی ہے جس پر حدیث داخل کی جاتی ہے اور اسے پتہ نہیں چلتا۔ انہوں نے خلاصہ یہ نکالا کہ یہ حدیث "موضوع" ہے جس کے وضعی ہونے میں ابتدائی طالب علم بھی شک نہیں کر سکتا۔ وضع کرنے والا تاریخ اور نقل سے جاہل ترین شخص تھا، کیونکہ فاطمہ نبوت سے 5 سال پہلے پیدا ہوئیں، جبکہ اسراء ہجرت سے ایک سال پہلے (خدیجہ کی وفات کے بعد) ہوا۔
ونحوه قول الذهبي في "تلخيصه"، وقول الحافظ في "إتحاف المهرة" (5066)، وكذلك قال نحوه السيوطيُّ في "اللآلئ المصنوعة" إذ أورد طرقه أيضًا 1/ 359 - 361.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اسی طرح کا قول ذہبی نے "تلخیص" میں، حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرۃ" (5066) میں اور سیوطی نے "اللآلئ المصنوعۃ" (1/ 359-361) میں نقل کیا ہے۔
وأخرجه ابن المغازلي في "مناقب عليّ" (407) من طريق أبي علي الفارسي، عن عبد الصمد بن علي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابن المغازلی نے "مناقب علی" (407) میں ابو علی الفارسی عن عبد الصمد بن علی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔