المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
137. منع النبى عليا عن نكاح بنت أبى جهل .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے سے منع فرمانا
حدیث نمبر: 4805
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي حنظلة رجلٍ من أهل مكة: أنَّ عليًّا خَطَبَ ابنة أبي جهل، فقال له أهلُها: لا نُزوِّجُك على ابنة رسول الله ﷺ، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فقال:"إنما فاطمةُ مُضغةٌ منّي، فمن آذاها فقد آذاني" (1) .
سیدنا ابوحنظلہ روایت کرتے ہیں کہ مکہ کے ایک باشندے نے بیان کیا:” کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے پیغام نکاح بھیجا، ان کے گھر والوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے ہوتے ہوئے اس کا نکاح تمہارے ساتھ نہیں کریں گے۔ اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4805]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4805 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة أبي حنظلة، فإنه لا يكاد يعرف، وانظر ترجمته في "تعجيل المنفعة" لابن حجر (1260).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی اسناد ابو حنظلہ کی "جہالت" (نامعلوم ہونے) کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ وہ پہچانے نہیں جاتے (لا یکاد یعرف)۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور ابن حجر کی "تعجیل المنفعہ" (1260) میں ان کا ترجمہ (حالاتِ زندگی) دیکھیں۔
وهو في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (1324).
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ روایت احمد بن حنبل کی "فضائل الصحابہ" (1324) میں موجود ہے۔