🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

137. مَنْعُ النَّبِيِّ عَلِيًّا عَنْ نِكَاحِ بِنْتِ أَبِي جَهْلٍ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے سے منع فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4803
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني حُميد وعلي بن زيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَمُرُّ بباب فاطمة ستة أشهرٍ إذا خرج الصلاة الفجر، يقولُ:"الصلاة يا أهل البيت ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4748 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک (یہ سلسلہ رہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو یوں آواز دیتے ہوئے گزرا کرتے تھے اے گھر والو نماز پڑھو، اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4803]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4804
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، أخبرني أبي، عن الشعبي، عن سُوَيد بن غَفَلة، قال: خطب عليٌّ ابنة أبي جهل إلى عمها الحارث بن هشام، فاستشار النبي ﷺ فقال:"أعَن حَسَبِها تسألني؟" قال عليٌّ: قد أعلمُ ما حَسَبُها، ولكن أتأمرني بها؟ فقال:"لا، فاطمةٌ مُضْغةٌ مني ولا أحسَبُ إلَّا وأنها تحزَنْ، أو تَجزَعُ"، فقال عليٌّ: لا آتي شيئًا تَكرَهُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4749 - مرسل قوي
سیدنا سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا حارث بن ہشام سے ابوجہل کی بیٹی کا رشتہ مانگا، اور اس سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھ سے اس کی خاندانی شرافت کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی خاندانی شرافت کو جانتا ہوں، آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی طرف سے اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے (تمہارے اس عمل سے) اس کو تکلیف ہو گی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ٹھیک ہے، میں ایسا کوئی اقدام نہیں کروں گا جو آپ کو تکلیف دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس سند کے ہمراہ بیان نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4804]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4805
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي حنظلة رجلٍ من أهل مكة: أنَّ عليًّا خَطَبَ ابنة أبي جهل، فقال له أهلُها: لا نُزوِّجُك على ابنة رسول الله ﷺ، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فقال:"إنما فاطمةُ مُضغةٌ منّي، فمن آذاها فقد آذاني" (1) .
سیدنا ابوحنظلہ روایت کرتے ہیں کہ مکہ کے ایک باشندے نے بیان کیا: کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے پیغام نکاح بھیجا، ان کے گھر والوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے ہوتے ہوئے اس کا نکاح تمہارے ساتھ نہیں کریں گے۔ اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4805]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں