🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
145. أشعار على على وفاة فاطمة رضي الله عنها
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کہے ہوئے اشعار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4824
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسدي الحافظ بهمذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا موسى بن جعفر بن محمد بن علي، عن أبيه، عن جده أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن عليّ: أنَّ فاطمة لما توفِّي رسول الله ﷺ كانت تقول: وابَتَاه (1) ، مِن رَبِّهِ ما أَدْناه، وابتاه، جنانُ الخُلْدِ مَأواه، وابتاه، ربُّه يُكرمه إذا أتاه، وابتاه، الربُّ ورسله يُسلِّم عليه حين يلقاه. فلما ماتت فاطمة قال علي بن أبي طالب: لكل اجتماع من خَليلَينِ فُرقةٌ..... وكلُّ الذي دون الفراق قليل وإنَّ افتقادي واحدًا بعد واحدٍ..... دليل على أن لا يَدُومَ خليل (2)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یوں کہتی تھی اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے میرے ابا جان! جنت خلد آپ کا ٹھکانہ ہے، اے میرے ابا جان! جب آپ اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچے ہوں گے تو اللہ کریم نے آپ کو کتنی عزت دی ہو گی، اے میرے ابا جان! جب آپ نے اپنے رب سے ملاقات کی ہو گی تو رب تعالیٰ اور اس کے فرشتے آپ پر سلام بھیج رہے ہوں گے، اور جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے درج ذیل اشعار کہے۔ دو دوستوں کے ملاپ میں جدائی بہرحال ہوتی ہے کوئی شاذونادر ہی فراق سے بچا ہو گا۔ اور میں نے جو یکے بعد دیگرے دو دوست کھو دیئے ہیں یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کوئی دوست (دنیا میں) ہمیشہ نہیں رہتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4824]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4824 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاء هذا الحرف في أصولنا الخطية في المواضع الأربعة بحذف همزة "أبتاه"، وهو لغة معروفة، حيث تحذف الهمزة تخفيفًا في مثل هذا الكلام الذي كثر استعماله وجرى مجرى المثل، ومنه قوله ﷺ: "ويلمه مِسعَرَ حَربٍ" فأصلها: ويلٌ لأمِّه، فحذفت اللام والهمزة من "لأمه" تخفيفًا. انظر "شواهد التوضيح والتصحيح" لابن مالك ص 157. وقد عدَّه السيوطي والخَفَاجي وغيرهما شذوذًا، ولكن عدُّه لغةً أحسن.
📚 لغوی تحقیق: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں چاروں مقامات پر یہ لفظ "أبتاه" کے ہمزہ کے حذف کے ساتھ ("بتاہ") آیا ہے، اور یہ ایک معروف لغت (لہجہ) ہے، جہاں کثرتِ استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لیے ہمزہ گرا دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال نبی کریم ﷺ کا قول "ويلمه مِسعَرَ حَربٍ" ہے، جس کی اصل "ويلٌ لأمِّه" تھی، پھر "لأمه" سے لام اور ہمزہ تخفیفاً حذف کر دیے گئے۔ ابن مالک کی "شواہد التوضیح والتصحیح" (ص 157) دیکھیں۔ اگرچہ سیوطی اور خفاجی وغیرہ نے اسے "شاذ" قرار دیا ہے، لیکن اسے (ایک جائز) "لغت" قرار دینا زیادہ بہتر ہے۔
(2) رجاله لا بأس بهم إلا أنه مرسل، فإنّ علي بن الحسين - وهو ابن علي بن أبي طالب - لم يدرك جده عليًّا، وقد اختلف فيه على إسماعيل بن أبي أُويس.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، مگر یہ "مرسل" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ علی بن حسین - جو کہ علی بن ابی طالب کے پوتے ہیں - نے اپنے دادا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ اور اس میں اسماعیل بن ابی اویس پر اختلاف بھی ہوا ہے۔
وهو عند المصنف في "فضائل فاطمة" (74)، غير أنه ذكر أبا أويس بدل موسى بن جعفر!! وأبو أويس والد إسماعيل ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کی "فضائل فاطمہ" (74) میں ہے، مگر وہاں انہوں نے موسیٰ بن جعفر کی جگہ "ابو اویس" کا ذکر کیا ہے!! اور ابو اویس (جو اسماعیل کے والد ہیں) وہ "ضعیف" ہیں۔
وأخرجه أيضًا (119) من طريق الفضل بن محمد الشَّعراني عن إسماعيل بن أبي أويس، عن محمد بن جعفر بن محمد بن علي، عن أبيه، عن جده، عن علي. فذكر قول فاطمة دون شعر عليٍّ. وذكر محمد بن جعفر بن محمد بن علي بدل أخيه موسى ولم يذكر علي بن الحسين!!
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے (119) میں فضل بن محمد شعرانی کے طریق سے اسماعیل بن ابی اویس سے، انہوں نے محمد بن جعفر بن محمد بن علی سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: پس انہوں نے فاطمہ کا قول ذکر کیا لیکن علی کا شعر ذکر نہیں کیا۔ اور اس میں (موسیٰ کے بھائی) "محمد بن جعفر بن محمد بن علی" کا ذکر کیا اور علی بن حسین کا ذکر نہیں کیا!!