المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
154. حج الحسن خمسا وعشرين حجة ماشيا .
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پچیس حج پیدل ادا کیے
حدیث نمبر: 4847
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا أبو يحيى الحِمّاني، حدثنا سفيان، عن نُعيم بن أبي هند، عن محمد بن سيرين، عن أبي هريرة، قال: لا أزال أحِبُّ هذا الرجل بعدما رأيتُ رسول الله ﷺ يصنع ما يصنعُ، رأيتُ الحَسنَ في حَجْر النبي ﷺ وهو يُدخل أصابعه في لحية النبي ﷺ، والنبي ﷺ يُدخِل لسانَه في فمِه، ثم قال:"اللهم إني أُحِبُّه فأَحِبَّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4791 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4791 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے ساتھ شفقت بھرا رویہ دیکھا ہے، اس سے محبت کرنے لگ گیا ہوں، میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے اور بار بار آپ علیہ السلام کی داڑھی مبارک میں انگلیاں ڈال رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے منہ میں اپنی زبان ڈالتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4847]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4847 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل أبي يحيى الحماني: وهو عبد الحميد بن عبد الرحمن. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند ابویحییٰ الحمانی (عبدالحمید بن عبدالرحمن) کی وجہ سے "قوی" (مضبوط) ہے۔ سفیان سے مراد "سفیان الثوری" ہیں۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (1365)، والإسماعيلي في "معجمه" (82)، وابن المقرئ في "معجمه" (658)، وابن عساكر 13/ 194 من طرق عن الحسن بن علي بن عفان، بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ جات: اسے ابن الاعرابی نے "المعجم" (1365)، اسماعیلی نے "المعجم" (82)، ابن المقری نے "المعجم" (658) اور ابن عساکر (13/ 194) نے مختلف طرق سے حسن بن علی بن عفان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16 / (10891) وغيره من طريق هشام بن سعد، عن نُعيم بن عبد الله المُجمر، عن أبي هريرة. وهشام حسن الحديث في المتابعات والشواهد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے امام احمد (16/ 10891) اور دیگر نے ہشام بن سعد کے طریق سے، انہوں نے نعیم بن عبداللہ المجمر سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ راوی: ہشام (بن سعد) متابعات اور شواہد میں "حسن الحدیث" ہیں۔
وأخرجه بنحوه أحمد 12 / (7398) و 14 / (8380)، والبخاري (5884)، ومسلم (2421)، وابن ماجه (142)، والنسائي (8108)، وابن حبان (6963) من طريق نافع بن جُبير بن مُطعم، عن أبي هريرة. وبعضهم اقتصر على آخره المرفوع. وانظر ما تقدم برقم (4832) و (4833)، وما سيأتي برقم (4883).
📖 تخریج / حوالہ جات: اسی جیسی روایت احمد (12/ 7398 و 14/ 8380)، بخاری (5884)، مسلم (2421)، ابن ماجہ (142)، نسائی (8108) اور ابن حبان (6963) نے نافع بن جبیر بن مطعم کے طریق سے، اور انہوں نے ابوہریرہ سے نکالی ہے۔ بعض نے صرف آخری مرفوع حصے پر اکتفا کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے گزشتہ نمبر (4832) اور (4833) دیکھیں، اور جو آگے نمبر (4883) پر آئے گا وہ بھی ملاحظہ کریں۔