🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
155. حب الصبيان من رحمة الله تعالى
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — بچوں سے محبت اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4848
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا محمد بن صالح المديني، حدثنا مُسلم بن أبي مريم، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، قال: كنا مع أبي هريرة فجاء الحسنُ بن علي بن أبي طالب فسلَّم، فرَدَدْنا عليه السلام، ولم يَعلَّم به أبو هريرة، فقلنا له: يا أبا هريرة، هذا الحسن بن عليٍّ قد سلَّم علينا، فلَحِقه، وقال: وعليك السلامُ يا سيدي، ثم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنه سيدٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4792 - صحيح
سیدنا سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے کہ سیدنا حسن بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، انہوں نے آتے ہی سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان کے آنے کا علم نہ ہوا۔ ہم نے ان کو بتایا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سلام کہہ رہے ہیں چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور ان کو سلام کا یوں جواب دیا وعلیک السلام یا سیدی پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ سید ہیں ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4848]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4848 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف من أجل محمد بن صالح المديني - وهو ابن قيس الأزرق، وليس بابن دينار التمار، وإن كان كلاهما وصف بالتمار فقد قال عنه أبو حاتم الرازي: شيخ، وقال الدارقطني: متروك، واختلف فيه قول ابن حبان، فأورده في "الثقات"، وكذلك أورده في "المجروحين" وقال فيه: شيخ يروي المناكير عن المشاهير لا يجوز الاحتجاج بخبره إذا انفرد.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند "ضعیف" ہے محمد بن صالح المدینی کی وجہ سے۔ 🔍 تعیینِ راوی و جرح: یہ "ابن قیس الازرق" ہیں، نہ کہ ابن دینار التمار (اگرچہ دونوں کو التمار کے لقب سے پکارا گیا ہے)۔ ابوحاتم رازی نے ان (ازرق) کے بارے میں کہا: "شیخ" ہے، دارقطنی نے کہا: "متروک" ہے۔ ابن حبان کا قول ان کے بارے میں مختلف ہے؛ انہوں نے اسے "الثقات" میں بھی ذکر کیا اور "المجروحین" میں بھی، اور وہاں کہا: یہ ایسا شیخ ہے جو مشہور راویوں سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے، جب یہ منفرد ہو تو اس کی خبر سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔
وأخرجه النسائي (10008) عن أحمد بن حرب الموصلي، عن زيد بن الحباب، عن محمد بن صالح الأزرق، بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے نسائی (10008) نے احمد بن حرب الموصلی سے، انہوں نے زید بن الحباب سے، انہوں نے محمد بن صالح الازرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد قد صحَّ قول النبي ﷺ للحسن بن عليّ بأنه سيّد في حديث أبي بكرة الثقفي الذي سيأتي عند المصنف برقم (4869)، وهو عند البخاري في "صحيحه" (2704).
📌 اہم نکتہ: نبی کریم ﷺ کا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو "سید" (سردار) فرمانا ابوبکرہ الثقفی کی حدیث سے بسندِ صحیح ثابت ہے، جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (4869) پر آئے گی اور وہ بخاری کی "صحیح" (2704) میں موجود ہے۔