المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
164. إخبار النبى بأن الحسن يصلح به بين فئتين من المسلمين
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائی جائے گی
حدیث نمبر: 4870
وحدثنا محمد بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن أبي بكرة قال: بَيْنا رسول الله ﷺ يخطُب الناس إذ جاء الحَسنُ بن علي فصَعِد إليه فضمه رسول الله ﷺ، وقال:"ألا إن ابني هذا سيّدٌ، وإنَّ الله ﷿ عَلَّه أن يُصلح به بين فئتين من المسلمين عظيمتين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4810 - أخرجهما البخاري من طريق أبي موسى إسرائيل عن الحسن
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے ساتھ چپکا لیا اور فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4870]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4870 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جدعان - غير أنه روى هذا الحديث عن الحسن - وهو البصري - جماعةٌ كما تقدَّم تخريجه عند الطريق التي قبل هذه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، (اگرچہ) یہ سند علی بن زید (بن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن حسن (بصری) سے اس حدیث کو ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ پچھلے طریق کی تخریج میں گزر چکا۔
وأخرجه أحمد 34 / (20499)، وأبو داود (4662) من طرق عن حماد بن زيد بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے احمد (34/ 20499) اور ابوداؤد (4662) نے حماد بن زید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔