🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. استشهد الحسين يوم الجمعة يوم عاشوراء
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، یومِ عاشورا شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4880
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مُسلِم. وأخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن أبي راشد عن يعلى العامري: أنه خرج مع رسول الله ﷺ إلى طعام دُعُوا له، قال: فاستَنْتَل (1) رسولُ الله ﷺ أمامَ القوم، وحسين مع غِلمان يلعب، فأراد رسولُ الله ﷺ أن يأخذه، فطَفِقَ الصبيُّ يَفِرُّ هاهنا، مرةٌ، وهاهنا مرةً، فجعل رسولُ الله ﷺ يُضاحِكُه حتى أخذَه، قال: فوضع إحدى يديه تحت قَفاهُ، والأخرى تحت ذَقَنِه، فوضع فاهُ على فِيهِ يُقبِّله، فقال:"حسينٌ مني وأنا من حُسين، أحبَّ اللهُ من أحبَّ حُسينًا، حسينٌ سِبطٌ من الأسباطِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4820 - صحيح
سیدنا یعلی عامری سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک دعوت میں شرکت کے لئے نکلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے آگے نکلے، وہاں پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پکڑنے لگے لیکن وہ کبھی ادھر بھاگ جاتے کبھی ادھر بھاگ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پیچھے پیچھے دوڑنے لگے بالآخر آپ نے ان کو پکڑ کر ان کا ایک ہاتھ اپنی گردن پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے دے کر اپنا منہ ان کے منہ سے لگا کر ان کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین میرا نواسہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4880]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4880 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من هامش (ص) مصححًا عليه، وهي بمعنى: تقدَّم، كما في "نهاية ابن الأثير" مادة (نتل)، وفي (ز) و (ب): فاسمل، وضبَّب فوقها في (ز)، وبيَّض مكانها في (م) و (ع)، وفي المطبوع: فاستقبل، وهي قريبة من معنى ما أثبتناه من هامش (ص)، ولعلَّ ما في (ز) منقول عن أصل قديم فيه فاستمثل، كما وقع في رواية "المسند" 29/ (17561)، فكأن الناسخ لم يستطع أن يتبينها لعدم وضوحها في ذلك الأصل الذي نقل منه، فرسمها كما ظهر له، إذًا فاللفظة التي عميت على ناسخ (ز) هي: فاستمثل، وكذلك جاء في "مصنف ابن أبي شيبة 12/ 102 - 103: فاستمثل، ويمكن أن تُحمَل على معنى ما ورد في هامش (ص)، لأنَّ استمثل من: مَثَل مُثُولًا: إذا انتصب قائمًا أمام غيره.
🔍 تحقیقِ متن / لغت: یہ لفظ (ص) کے حاشیے سے تصحیح شدہ ثابت کیا گیا ہے، اور یہ "تقدَّم" (آگے بڑھنا) کے معنی میں ہے، جیسا کہ ابن اثیر کی "النہایہ" میں مادہ (نتل) کے تحت ہے۔ (ز) اور (ب) میں "فاسمل" ہے اور (ز) میں اس پر نشان (ضبہ) لگا ہے، جبکہ (م) اور (ع) میں جگہ خالی چھوڑی گئی ہے۔ مطبوعہ نسخے میں "فاستقبل" ہے جو ہمارے ثابت کردہ معنی کے قریب ہے۔ شاید (ز) میں جو لفظ ہے وہ کسی قدیم نسخے سے منقول ہے جس میں "فاستمثل" تھا، جیسا کہ مسند احمد (29/ 17561) میں ہے۔ گویا کاتب اسے اصل نسخے میں واضح نہ ہونے کی وجہ سے پڑھ نہ سکا اور جیسا نظر آیا لکھ دیا۔ پس وہ لفظ جو کاتب پر مخفی رہا وہ "فاستمثل" ہے، اور ابن ابی شیبہ (12/ 102-103) میں بھی "فاستمثل" ہی آیا ہے۔ اس کا معنی بھی (ص) کے حاشیے والا لیا جا سکتا ہے، کیونکہ "استمثل" نکلا ہے "مَثَل مُثُولًا" سے: جب کوئی کسی کے سامنے سیدھا کھڑا ہو جائے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4827). وهو في "مسند أحمد" 29 / (17561).
⚖️ درجۂ سند: یہ سند تحسین کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ نمبر (4827) پر بیان گزر چکا۔ اور یہ "مسند احمد" (29/ 17561) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (6971) من طريق أبي بكر بن أبي شَيْبة، عن عفان، بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے ابن حبان (6971) نے ابوبکر بن ابی شیبہ کے طریق سے، انہوں نے عفان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (144) من طريق يحيى بن سليم الطائفي، والترمذي (3775) من طريق إسماعيل بن عيّاش كلاهما عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم به. وسمَّيا الصحابي يعلى بن مرة. واقتصر الترمذي على المرفوع آخره، وقال: حديث حسن.
📖 تخریج / حوالہ جات: اسے ابن ماجہ (144) نے یحییٰ بن سلیم الطائفی کے طریق سے، اور ترمذی (3775) نے اسماعیل بن عیاش کے طریق سے روایت کیا۔ یہ دونوں اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے صحابی کا نام "یعلیٰ بن مرہ" ذکر کیا ہے۔ ترمذی نے صرف آخری مرفوع حصے پر اکتفا کیا اور فرمایا: "یہ حدیث حسن ہے۔"
والقفا: مؤخَّر العُنُق.
📝 لغوی تشریح: "القفا": گردن کا پچھلا حصہ (گدی)۔