المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
169. استشهد الحسين يوم الجمعة يوم عاشوراء
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، یومِ عاشورا شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4879
أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكِّي، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو الأشعث، حدثنا زهير بن العلاء، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادةَ قال: وَلَدَت فاطمةُ حُسينًا بعد الحسن لسنة وعشرة أشهر، فولدته لستِّ سنين وخمسة أشهر ونصف من التاريخ، وقُتل الحسين يومَ الجمعة يومَ عاشوراءَ لعشرٍ مَضَين من المُحرَّم سنة إحدى وستين، وهو ابن أربع وخمسين سنة (1) . وقد ذكرتُ هذه الأخبارَ بشرحها في كتاب"مَقتَل الحسين"، وفيه كفاية لمن سمعه ووَعَاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4819 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4819 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ایک سال اور دس ماہ بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، (اس سے ثابت ہوا کہ) سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہجرت کے چھ سال اور ساڑھے پانچ ماہ بعد ہوئی۔ جبکہ آپ کی شہادت 10 محرم الحرام، 61 ہجری کو ہوئی، شہادت کے وقت آپ کی عمر شریف 54 سال تھی۔ ٭٭ میں نے اس موضوع پر تفصیلی احادیث شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے باب میں بیان کر دی ہیں، سننے اور یاد رکھنے والے کے لئے وہی کافی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4879]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4879 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذه الرواية فيها لِين من أجل زهير بن العلاء ففيه لين، ويخالف روايته هذه ما تقدَّم عن أبي جعفر محمد بن علي الباقر برقم (4859) أنه لم يكن بين ولادة الحسن وولادة الحسين إلّا مدّة الحَبَل، وأبو جعفر يحكي شيئًا مما يتعلق بأهل بيته، وهو أدرى بذلك من غيره، فقوله هو المقدَّم. وقد أخطأ زهير بن العلاء أيضًا في تاريخ ولادة الحسن بن علي كما تقدم بيانه برقم (4845)، فلا اعتداد بروايته هذه البتة.
⚖️ درجۂ روایت: اس روایت میں زہیر بن العلاء کی وجہ سے "لین" (کمزوری) ہے۔ 🔍 علّت / تعارض: یہ روایت اس کے خلاف ہے جو ابوجعفر محمد بن علی الباقر سے نمبر (4859) پر گزری کہ حسن اور حسین کی ولادت کے درمیان صرف حمل کی مدت کا وقفہ تھا۔ ابوجعفر اپنے اہلِ بیت کے متعلق بات بیان کر رہے ہیں اور وہ دوسروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں، لہٰذا ان کا قول مقدم ہے۔ زہیر بن العلاء نے حسن بن علی کی تاریخ ولادت میں بھی غلطی کی ہے جیسا کہ نمبر (4845) پر گزر چکا، لہٰذا ان کی اس روایت کا قطعاً کوئی اعتبار نہیں۔
وأخرج هذه الرواية أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (1779)، ومن طريقه ابن عساكر 14/ 116 عن أبي حامد وأحمد بن محمد بن جبلة النيسابوري، عن محمد بن إسحاق الثقفي - وهو السرّاج - به.
📖 تخریج / حوالہ: اس روایت کو ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (1779) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر (14/ 116) نے ابوحامد اور احمد بن محمد بن جبلہ النیسابوری کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن اسحاق الثقفی (السراج) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔