المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
213. ذكر شهادة حنظلة بن عبد الله جنبا وغسل الملائكة له
سیدنا حنظلہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی حالتِ جنابت میں شہادت اور فرشتوں کا غسل دینا
حدیث نمبر: 4978
حَدَّثَنَا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم ابن إسحاق بن إبراهيم بن عيسى بن مَسْلمة بن سُليمان بن عبد الله بن أبي عامر بن عبد عَمرو، حدثني أبي، عن أبيه، عن جدِّه: أَنَّ حَنْظلة بن أبي عامر تَزوَّج فدَخَل بأهله الليلةَ التي كانت صبيحتُها يومَ أُحُدٍ، فلما صلَّى الصبحَ لَزِمَته جميلةُ، فعادَ فكان معها، فأجنَبَ منها، ثم أنه لَحِقَ برسولِ الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4916 - إسناده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4916 - إسناده مظلم
ابواسحاق، ابراہیم بن اسحاق بن ابراہیم بن عیسیٰ بن مسلمہ بن سلیمان بن عبداللہ بن حنظلہ ابن ابی عامر بن عبد عمرو بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے والد کے حوالے سے ان کے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ سیدنا حنظلہ بن ابی عامر نے شادی کی، اور رات کو اپنی دلہن کے ساتھ ہمبستری کی (یہ وہی رات تھی جس کی صبح میں غزوہ احد رونما ہوا تھا) پھر جب انہوں نے نماز فجر ادا کر لی تو دلہن نے ان کو دوبارہ پکڑ لیا، انہوں نے دوبارہ ہمبستری کی، اس کی وجہ سے ان پر غسل فرض ہو چکا تھا، پھر وہ (غسل کئے بغیر ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہو گئے۔ (غسل نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ غسل میں مشغول ہو گیا تو کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تعمیل میں دیر نہ ہو جائے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4978]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4978 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده مظلم كما قال الذهبي في "تلخيصه"، فإنَّ أبا إسحاق إبراهيم بن إسحاق قال عنه ابن حبان: كان يقلب الأخبار ويسرق الحديث، وقال عنه الخطيب: كان غير ثقة. قلنا: ومن فوقه من آبائه لا يُعرفون إلَّا بهذا الإسناد، فهم مجاهيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "مظلم" (تاریک/انتہائی خراب) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا۔ 🔍 فنی نکتہ / جرح و تعدیل: اس میں ابو اسحاق ابراہیم بن اسحاق ہیں جن کے بارے میں ابن حبان نے کہا: "یہ خبریں الٹ دیتا تھا اور حدیث چوری کرتا تھا"، اور خطیب نے کہا: "یہ غیر ثقہ تھا"۔ ہم کہتے ہیں: اس سے اوپر اس کے آباء و اجداد صرف اسی سند سے پہچانے جاتے ہیں، لہٰذا وہ سب "مجہول" ہیں۔
وقد روى الواقديُّ في "مغازيه" 1/ 273 - ومن طريقه ابن سعد 4/ 291، وابن عساكر 27/ 421 - عن شيوخه، مثل هذا الخبر تمامًا.
📖 حوالہ / مصدر: واقدی نے "المغازی": 1/ 273 میں - اور ان کے طریق سے ابن سعد: 4/ 291 اور ابن عساکر: 27/ 421 نے - اپنے شیوخ سے بالکل اسی طرح کی خبر روایت کی ہے۔