🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
218. قَوْلُ الْمُنَافِقِينَ فِي جِنَازَةِ سَعْدٍ وَجَوَابُ رَسُولِ اللَّهِ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — منافقین کا آپ کی جنازہ پر کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4989
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن إسحاق بن راشد، عن أسماء بنت يزيد بن السَّكَن الأنصارية، قالت: لما ماتَ سعدُ بن مُعاذٍ صاحَتْ أمُّه، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"ألا يَرقأُ دمعُكِ ويذهبُ حُزنُك، فإنَّ ابنَكِ أولُ مَن ضَحِك اللهُ إليه، واهتزَّ له العَرشُ" (1) . صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4925 - صحيح
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ان کی والدہ چیخ مار کر روئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے آنسو خشک نہیں ہوں گے اور تمہارا غم دور نہیں ہوگا؟ تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے (خوشی سے) تبسم فرمایا اور اس کے لیے عرش ہل اٹھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4989]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل إسحاق بن راشد. وهو الكوفي» [ترقيم الرساله 4989] [ترقيم الشركة 4955] [ترقيم العلميه 4925]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4989 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين من أجل إسحاق بن راشد. وهو الكوفي - فقد ترجم له الخطيب في "المتفق والمفترق" 1/ 418 - 419 وذكر أنه روى عنه أيضًا مسعر بن كدام. وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسحاق بن راشد کی وجہ سے "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے (حسن ہو سکتی ہے)۔ یہ کوفی راوی ہیں، خطیب نے "المتفق والمفترق": 1/ 418-419 میں ان کا ترجمہ کیا ہے اور ذکر کیا ہے کہ ان سے مسعر بن کدام نے بھی روایت کی ہے، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27581) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 45/ (27581) میں یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔
قوله: "يَرقأُ دَمعُك"؛ أي: يسكن وينقطع.
🔍 فنی نکتہ / لغت: قولہ "یرقا دمعک" کا مطلب ہے: تمہارے آنسو تھم جائیں اور رک جائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4989 in Urdu