المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
218. قول المنافقين فى جنازة سعد وجواب رسول الله
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — منافقین کا آپ کی جنازہ پر کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب
حدیث نمبر: 4990
أخبرني عبد الله بن محمد بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى - وقد كان أبو موسى حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا به عنه في الرَّحْلة الأَوَّلة، فلما قدمتُ سألتُ محمد بن يحيى، فحدثني به - قال: حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس قال: لما حُمِلَت جَنازةُ سعد بن مُعاذ قال المنافقون: ما أخفَّ جنازتَه، وما ذاك إِلَّا لِحُكمِه في بني قُرَيظة، فبلغ ذلك النَّبِيَّ ﷺ، فقال:"لا، ولكنَّ الملائكةَ كانت تَحمِلُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4926 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4926 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تومنافقین کہنے لگے: اس کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، اس نے بنی قریظہ کے خلاف جو فیصلہ کیا تھا اس کی وجہ سے ایسا ہوا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ فرشتے ان کو اٹھا رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4990]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4990 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو موسى: هو محمد بن المثنَّى الزَّمِن، ومحمد بن يحيى: هو الذُّهْلي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو موسیٰ سے مراد محمد بن المثنیٰ الزمن ہیں، اور محمد بن یحییٰ سے مراد الذہلی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3849) عن عَبد بن حميد، عن عبد الرزاق بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی: (3849) نے عبد بن حمید سے، انہوں نے عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے"۔
وأخرجه بنحوه ابن حبان (7032) من طريق محمد بن سواء، عن شعبة، عن قتادة به. لكن جاء عند ضياء الدين المقدسي في "المختارة" 7/ (2414) من طريق أخرى عن محمد بن سواء، عن سعيد، عن قتادة. فذكر سعيدًا بدل شعبة. قال الضياء بعد أن أشار إلى رواية ابن حبان: الله أعلم بالصواب هل هو سعيد أو شعبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان: (7032) نے محمد بن سواء > شعبہ > قتادہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن ضیاء الدین المقدسی کے پاس "المختارۃ": 7/ (2414) میں یہ دوسرے طریق سے "محمد بن سواء > سعید > قتادہ" کے واسطے سے آیا ہے (شعبہ کی جگہ سعید کا ذکر ہے)۔ ضیاء نے ابن حبان کی روایت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا: "اللہ بہتر جانتا ہے کہ صحیح سعید ہے یا شعبہ"۔