🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
220. ذكر مناقب جعفر بن أبى طالب بن عبد المطلب بن هاشم - قتل بمؤتة شهيدا فى سنة ثمان من الهجرة رضى الله عنه
سیدنا جعفر بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ مؤتہ میں آٹھ ہجری میں شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4994
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن هشام بن مَلّاس (1) ، حَدَّثَنَا مروان بن معاوية، حَدَّثَنَا حُميد، عن أنس. وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ - واللفظُ له - حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو الوليد، حَدَّثَنَا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس قال: انطلَقَ حارثةُ ابن عَمّتي نَظارًا يومَ بدرٍ، وما انطلَقَ لقتالٍ، فأصابَه سهمٌ فقتلَه، فجاءت عَمّتي إلى رسولِ الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، ابني حارثةُ، إن يكن في الجنة أصبِرْ واحتَسِبْ، وإلَّا فترى ما أصنَعُ، فقال:"يا أمَّ حارثة، إنها جِنانٌ كثيرةٌ، وإنَّ حارثةَ في الفِردَوس الأعلَى" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة التي رواها ثابتٌ، إنما اتفقا (1) على رواية حُميد عن أنس مختصرًا. ذكرُ مناقب جعفر بن أبي طالب بن عبد المُطلّب بن هاشم قُتل بمُؤتة شهيدًا في سنة ثمان من الهجرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4930 - على شرط البخاري
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ جنگ بدر کے دن تیروں کی دیکھ بھال کے لئے ساتھ گیا تھا، جہاد کے لئے نہیں گئے تھے۔ ایک تیر آ کر ان کو لگا اور وہ شہید ہو گئے، ان کی پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا حارثہ اگر جنت میں ہے تو میں ثواب کی امید بھی رکھتی ہوں اور صبر بھی کرتی ہوں ورنہ آپ دیکھ لیں گے جو میں کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! بے شک جنتیں تو بہت ساری ہیں اور حارثہ ان میں سب سے اعلی جنت میں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا جس کے ساتھ ثابت نے نقل کیا ہے۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حمید کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ مختصر حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4994]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4994 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في المطبوع إلى: جلاس.
📝 نوٹ / توضیح: (1) مطبوعہ نسخے میں یہ نام تحریف ہو کر "جلاس" بن گیا تھا۔
(2) إسناداه صحيحان. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وأبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی دونوں سندیں "صحیح" ہیں۔ حمید سے مراد ابن ابی حمید الطویل، ابو الولید سے مراد ہشام بن عبدالملک الطیالسی، اور ثابت سے مراد ابن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 21/ (13787)، والبخاري (6567)، والنسائي (8174)، وابن حبان (7391) من طريق إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير، والبخاري (3982) و (6550) من طريق أبي إسحاق إبراهيم بن محمد الفَزَاري، كلاهما عن حميد الطويل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 21/ (13787)، بخاری: (6567)، نسائی: (8174) اور ابن حبان: (7391) نے اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر کے طریق سے؛ اور بخاری: (3982) و (6550) نے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الفزاری کے طریق سے؛ دونوں نے حمید الطویل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13250) و 21/ (14011)، والنسائي (8175)، وابن حبان (4664) من طُرق عن سليمان بن المغيرة به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے مسند احمد: 20/ (13250) و 21/ (14011)، نسائی: (8175) اور ابن حبان: (4664) نے سلیمان بن مغیرہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 20/ (13200) و 21 / (13741) و (14015)، والبخاري (2809)، والترمذي (3174)، وابن حبان (958) من طريق قتادة، عن أنس بن مالك.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے مسند احمد: 20/ (13200) و 21/ (13741) و (14015)، بخاری: (2809)، ترمذی: (3174) اور ابن حبان: (958) نے قتادہ > انس بن مالک ؓ کے طریق سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
وقال قتادة في روايته: وإلّا اجتهدتُ عليه في البكاء، وهو تفسيرٌ لقولها هنا: فترى ما أصنَع، وسمَّى في روايته حارثةَ ابنَ سُراقة. فليس هو إذًا حارثة بن النعمان حتَّى يُذكر هذا الحديثُ في مناقبه كما صنع المصنِّف!
📌 اہم نکتہ / تحقیق: قتادہ نے اپنی روایت میں فرمایا: "ورنہ میں اس پر خوب روؤں گی"۔ یہ (صحابیہ کے) اس قول کی تفسیر ہے جو یہاں ہے: "آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں"۔ قتادہ نے اپنی روایت میں (مقتول کا نام) "حارثہ بن سراقہ" ذکر کیا ہے۔ لہٰذا یہ "حارثہ بن نعمان" نہیں ہیں کہ اس حدیث کو ان کے مناقب میں ذکر کیا جائے جیسا کہ مصنف (حاکم) نے کیا!
وقول أنس في رواية ثابت: حارثة ابن عمتي، يؤكد أنه حارثة بن سراقة، لأنَّ أم حارثة بن سراقة هي الرُّبَيِّع بنت النضر بن ضَمْضَم، وهي عمة أنس بن مالك.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ثابت کی روایت میں انس ؓ کا قول "حارثہ بن عمتی" (میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ) اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ حارثہ بن سراقہ ہیں، کیونکہ حارثہ بن سراقہ کی والدہ "الربیع بنت النضر بن ضمضم" ہیں جو انس بن مالک ؓ کی پھوپھی ہیں۔
(1) لم يُخرج مسلم هذا الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: (1) مسلم نے اس حدیث کی تخریج نہیں کی۔