🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
233. كان النبى إذا لم يغز لم يعط سلاحه إلا عليا أو زيدا
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود غزوہ پر نہ جاتے تو اپنا اسلحہ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو عطا فرماتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5025
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر بن حَزْم وصالح بن أبي أُمامة بن سَهْل، عن أبيه (3) ، قال: لما فَرَغَ رسولُ الله ﷺ مِن بَدْرٍ بَعَثَ بَشِيرَينِ إلى أهل المدينة: بعثَ زيدَ بنَ حارثة إلى أهل السافِلةِ، وبعثَ عبدَ الله بن رَوَاحة إلى أهل العاليَةِ يُبشِّرونهم بفَتْح الله على نَبيّه ﷺ، فوافق زيدُ بنَ حارثة ابنَه أسامة حين سَوَّى (1) على رُقيّةَ بنتِ رسولِ الله ﷺ، فقيل له: ذاك أبوك حين قَدِمَ، قال أسامةُ: فجئتُ وهو واقفٌ للناس يقول: قُتِل عُتبةُ بن رَبيعة، وشَيْبة بن رَبيعة، وأبو جهل بن هشام، ونُبَيهٌ ومُنبِّهٌ وأُميّةُ بن خَلَف، فقلت: يا أَبَهْ، أَحقٌّ؟ قال: نَعَمْ والله يا بُنيَّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4959 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو دو آدمیوں کو بھیجا تاکہ وہ اہل مدینہ کو فتح کی خوشخبری سنا دیں، ان میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ زیریں علاقہ کے لوگوں کی جانب بھیجا اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے بالائی علاقے والوں کے لئے خوشخبری سنانے کے واسطے بھیجا۔ چنانچہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کی موافقت کی، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین میں مصروف تھے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سیدہ رقیہ کی تیمارداری کے لئے جنگ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا۔ شفیق) جب سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے والد آ رہے ہیں، اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آیا تو وہ لوگوں کے سامنے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے: عتبہ بن ربیعہ مارا گیا، شیبہ بن ربیعہ بھی مارا گیا، اور ابوجہل بن ہشام بھی مارا گیا، (حجاج کے دونوں بیٹے) نبیہ اور منبہ بھی مارے گئے اور امیہ بن خلف بھی قتل ہو گیا۔ میں کہا: ابا جان! کیا یہ واقعی سچ ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ہاں، اے میرے بیٹے! یہ سچ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5025]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5025 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا جاء في نسخ "المستدرك" بذكر أبي أمامة بن سهل في إسناد الخبر، ولم يرد ذكره في رواية البيهقي في "الدلائل" 3/ 187، وفي "السنن الكبرى" 9/ 183 عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده هذا الذي هنا، ولم يرد كذلك في رواية زياد البكائي عن ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 2/ 51، ولا في رواية سَلَمة بن الفضل الأبرش عن ابن إسحاق كما في "تاريخ الطبري" 2/ 487، فالظاهر أنَّ ذكر أبي أمامة بن سهل في إسناده وهمٌ، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) "المستدرک" کے نسخوں میں سند میں "ابو امامہ بن سہل" کا ذکر آیا ہے، جبکہ بیہقی کی "الدلائل": 3/ 187 اور "السنن الکبریٰ": 9/ 183 میں (جو انہوں نے حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی) ان کا ذکر نہیں ہے۔ نہ ہی زیاد البکائی عن ابن اسحاق ["سیرت ابن ہشام": 2/ 51] اور نہ ہی سلمہ بن فضل عن ابن اسحاق ["تاریخ طبری": 2/ 487] میں ان کا ذکر ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ظاہر یہی ہے کہ سند میں ابو امامہ بن سہل کا ذکر "وہم" ہے۔ واللہ اعلم۔
(1) أي: سوى التراب.
🔍 فنی نکتہ / لغت: (متن میں موجود لفظ کا مطلب ہے): مٹی کے برابر کر دیا۔
(2) حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، وكأنَّ الخبر من مسند أسامة بن زيد نفسِه، كما يدلُّ عليه سياقُ الحديث بعد ذلك، فإن صحَّ ذكر أبي أمامة بن سهل في إسناده يمكن الحكم باتصال الإسناد ويكون حسنًا، لكن تقدم قريبًا أنه لم يرد ذكر أبي أمامة إلّا في رواية المصنِّف هنا، وإذا كان لا يصح ذكر أبي أمامة كان الإسناد منقطعًا لعدم إدراك عبد الله بن أبي بكر بن حزم وصالح بن أبي أمامة لأسامة بن زيد، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ خبر خود اسامہ بن زید کی مسند سے ہے جیسا کہ سیاق دلالت کرتا ہے۔ اگر ابو امامہ بن سہل کا ذکر صحیح ہو تو سند متصل اور حسن ہو سکتی ہے، لیکن جیسا کہ گزرا یہ ذکر صرف مصنف کے ہاں ہے۔ اگر یہ صحیح نہیں تو سند "منقطع" ہے کیونکہ عبداللہ بن ابی بکر بن حزم اور صالح بن ابی امامہ نے اسامہ بن زید کو نہیں پایا۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 183، وفي "دلائل النبوة" 3/ 187 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. ليس فيه أبو أمامة بن سهل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ": 9/ 183 اور "دلائل النبوۃ": 3/ 187 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن اس میں ابو امامہ بن سہل نہیں ہیں۔
وأخرجه كذلك ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 51 عن زياد بن عبد الله البكّائي، والطبري في "تاريخه" 2/ 487 من طريق سلمة بن الفضل الأبرش، كلاهما عن ابن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ": 2/ 51 میں زیاد بن عبداللہ البکائی سے، اور طبری نے "تاریخ": 2/ 487 میں سلمہ بن فضل کے طریق سے، دونوں نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له مرسلًا حديثًا عروة بن الزبير والزهري الآتيان برقمي (7024) و (7029).
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) عروہ بن زبیر اور زہری کی مرسل احادیث کرتی ہیں جو نمبر (7024) اور (7029) پر آئیں گی۔