🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
فحدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن محمد النَّسَوي، حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد، حدثنا أحمد بن الحسين بن عبد الملك، حدثنا معاذ بن موسى، حدثنا محمد بن الحسين بن علي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن جدِّه، عن علي بن أبي طالب قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن ماء البحر، فقال:"هو الطَّهورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . وأما حديث ابن عباس، فقد ذكرناه (1) . وأما حديث جابر:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا تعلق ہے تو ہم اسے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 505]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 505 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف، فيه من لا يعرف وكذا قال الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 1/ 12.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں مجہول (نامعلوم) راوی ہیں؛ یہی بات حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" 1/ 12 میں کہی ہے۔
وأخرجه الدارقطني (73) عن أحمد بن محمد بن سعيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی (73) نے احمد بن محمد بن سعید کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(1) سلف برقم (495).
📌 اہم نکتہ: یہ روایت پہلے نمبر (495) پر گزر چکی ہے۔