المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
249. ذكر قطبة بن عامر الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5065
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني يزيد بن رُومان، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بالقَلِيب فطُرِحُوا فيه، فوقفَ عليهم رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا أهلَ القَلِيبِ، هل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكم حقًّا؟ فإني وجدتُ ما وَعَدني ربي حقًّا"، فقال أصحابُه: يا رسول الله، تكلِّم أقوامًا مَوتَى؟ فقال:"لقد علموا أنَّ ما وعدكم ربُّكم حقٌّ"، فلما أمَرَ بهم فَسُحِبُوا، عُرِف في وجه أبي حُذيفةَ بن عُتبة الكراهيَةُ وأبوه يُسحَبُ إلى القَلِيب، فقال له رسولُ الله ﷺ:"يا أبا حذيفةَ، والله لكأنه ساءَكَ ما كان في أبيك؟" فقال: والله يا رسول الله، ما شَكَكتُ في الله وفي رسول الله، ولكن أنْ كان حليمًا سديدًا ذا رأي، فكنتُ أرجُو أن لا يموتَ حتى يَهديَه الله ﷿ إلى الإسلام، فلما رأيتُ أن قد فاتَ ذلك ووَقَع حيث وَقَع، أحزَنَني ذلك، قال: فدعا له رسولُ الله ﷺ بخَيرٍ (3) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ قُطْبةَ بن عامر الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کافروں کی لاشوں کو) قلیب (کنویں میں پھینکنے کا) حکم دیا۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کو کنویں میں پھینک دیا گیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنویں پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: اے کنویں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بے شک میرے ساتھ میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کو سچ پایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مرے ہوؤں سے گفتگو فرما رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک انہوں نے جان لیا ہے کہ جو ان کے رب نے وعدہ کیا تھا وہ برحق ہے۔ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ان کو گھسیٹ کر کنویں میں پھینکا جا رہا تھا تو جب سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے باپ کو پھینکا جا رہا تھا تو ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار بالکل نمایاں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ خدا کی قسم! تیرے باپ کے ساتھ جو معاملہ ہوا ہے اس نے تجھے پریشان کیا ہے۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! میں نے کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں شک نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ کہ میرا باپ بردبار، سیدھا سادھا، اور سمجھ بوجھ والا تھا، میری یہ آرزو تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اسلام کی ہدایت عطا فرما دیتا۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو اس وجہ سے مجھے شدید غم لاحق ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ابوحذیفہ) کے لئے دعائے خیر فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5065]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5065 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صحَّ عن عائشة من وجه آخر كما تقدَّم برقم (3569) لكن دون قصة أبي حذيفة بن عُتبة.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ایک اور صحیح طریق سے (نمبر 3569 پر) گزری ہے، مگر اس میں ابوحذیفہ بن عتبہ کا قصہ موجود نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26361) من طريق إبراهيم بن سعد، وابن حبان (7088) من طريق جرير بن حازم، كلاهما عن محمد بن إسحاق، به. لكن إبراهيم بن سعد لم يذكر في روايته قصة أبي حذيفة بن عُتبة. وقد ذكر زيادٌ البكّائي كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 639 هذه القصة عن ابن إسحاق بلاغًا، وكذلك جاء في رواية سلمة بن الفضل عن ابن إسحاق عند الطبري في "تاريخه" 2/ 457، فلم يذكر قصة أبي حذيفة عن ابن إسحاق موصولة إلّا يونُس بنُ بُكَير وجريرُ بنُ حازم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (43/26361) اور ابن حبان (7088) نے جریر بن حازم عن محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن اسحاق سے ابوحذیفہ بن عتبہ کا یہ قصہ صرف یونس بن بکیر اور جریر بن حازم نے ہی "موصول" بیان کیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے "بلاغاً" (بغیر سند) ذکر کیا ہے۔