المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
271. مدح النبى بعض أصحابه بأسمائهم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے بعض صحابہ کی نام لے کر تعریف فرمانا
حدیث نمبر: 5102
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المُثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن المُبارك، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال:"نِعمَ الرجلُ أبو بكر، نِعمَ الرجلُ عمرُ، نِعمَ الرجلُ أبو عُبيدة بن الجَرّاح، نِعمَ الرجلُ ثابتُ بن قَيس بن شَمّاس، نِعمَ الرجلُ مُعاذُ بن جَبَل، نِعمَ الرجلُ معاذُ بن عَمرو بن الجَمُوح، بئسَ الرجلُ فلانٌ وفلانٌ" سبعةُ رجالٍ سَمّاهم رسولُ الله ﷺ، ولم يُسمِّهم لنا سُهيلٌ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5031 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5031 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، عمر رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے۔ اور فلاں فلاں آدمی کتنا برا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سات آدمیوں کا ذکر کیا، لیکن ان میں سہیل کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5102]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5102 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو المُثنَّى: هو معاذ بن المُثنَّى بن معاذ العَنْبري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو المثنیٰ سے مراد "معاذ بن المثنیٰ بن معاذ العنبری" ہیں۔
وأخرجه النسائي (8173)، وابن حبان (6997) و (7129) من طرق عن عبد العزيز بن أبي حازم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (8173) اور ابن حبان (6997 اور 7129) نے عبد العزیز بن ابی حازم سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9431)، والترمذي (3795) من طريق عبد العزيز بن محمد الدراوردي، والنسائي (8186) من طريق سليمان بن بلال كلاهما عن سُهيل بن أبي صالح، به. وقال الترمذي: حديث حسن. وزاد فيه الدراوردي أُسيد بن حضير، وذكره سليمان بن بلال مكان ثابت بن قيس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15/9431) اور ترمذی (3795) نے عبد العزیز بن محمد الدراوردی کے طریق سے، اور نسائی (8186) نے سلیمان بن بلال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (دراوردی اور سلیمان) اسے سہیل بن ابی صالح سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: دراوردی نے اس روایت میں "اسید بن حضیر" کا اضافہ کیا ہے، جبکہ سلیمان بن بلال نے ثابت بن قیس کی جگہ انہی (اسید بن حضیر) کا ذکر کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5247) من طريق سهل بن بكار عن عبد العزيز بن أبي حازم.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف (حاکم) کے پاس آگے نمبر (5247) پر سہل بن بکار عن عبد العزیز بن ابی حازم کے طریق سے آئے گی۔
وسيأتي مختصرًا بذكر معاذ بن عمرو بن الجموح برقم (5911) من طريق عبد العزيز الدراوردي عن سهيل بن أبي صالح.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہی روایت مختصر طور پر معاذ بن عمرو بن جموح کے ذکر کے ساتھ آگے نمبر (5911) پر عبد العزیز الدراوردی عن سہیل بن ابی صالح کے طریق سے آئے گی۔