🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
274. وصايا ثابت بن قيس فى الرؤيا بعدما استشهد وإنفاذها
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خواب میں کی گئی وصایات اور ان پر عمل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5106
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ ثابت بن قيس جاء يومَ اليَمامة، وقد تَحنَّطَ ولَبِسَ أكفانَه، وقد انهزمَ أصحابُه، وقال: اللهمَّ إني أبْرأُ إليك مما جاءَ به هؤلاء، وأعتذِرُ إليك مما صنعَ هؤلاء، فبئسَ ما عَوَّدتُم أقرانَكم، خَلُّوا بيننا وبين أقرانِنا ساعةً، ثم حَمَل فقاتَلَ ساعةً فقُتِل، وكانت دِرعُه قد سُرِقَت، فرآه رجلٌ فيما يَرى النائمُ، فقال: إنَّ دِرعي في قِدرٍ تحت إكافٍ بمكان كذا وكذا، وأَوصى بوصايا، فطُلِب الدِّرعُ، فوُجِد حيثُ قال فأنفَذُوا وصيّتَه (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولحديث وصاياه قصة عجيبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5035 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنگ یمامہ کے دن سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت وہ حنوط بھی لگا چکے تھے اور کفن پہن چکے تھے۔ اور ان کے ساتھ شکست سے دوچار ہو چکے تھے، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! میں ان لوگوں کے اعمال سے تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا ہوں، اور جو کچھ ان لوگوں نے کیا تیری بارگاہ میں اس کی معافی کا طلبگار ہوں، تم نے اپنے ساتھیوں کو کتنا ہی برا حنوط لگایا ہے، کچھ دیر کے لئے ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے درمیان تخلیہ کر دو، پھر انہوں نے ہتھیار اٹھائے اور تھوڑی دیر کی جنگ کے بعد شہید ہو گئے، ان کی زرہ چوری ہو گئی تھی، ایک آدمی نے آپ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے اس آدمی کو کہا: میری زرہ مکہ میں فلاں مکان کے پالان کے نیچے ہے، پھر انہوں نے اسی آدمی کو کچھ وصیتیں بھی کیں، (ان کے بتائے ہوئے مقام پر) زرہ ڈھونڈی گئی، تو وہیں سے مل گئی۔ صحابہ کرام نے ان کی (خواب میں کی ہوئی) وصیت کو پورا کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ان کی وصیت کا بڑا دلچسپ قصہ ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5106]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5106 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 تعیینِ راوی: "ثابت" سے مراد ثابت بن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 356 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (6/356) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 4/ 345، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (250)، والطبري في "الكبير" (1307)، وأبو بكر البرقاني في "مستخرجه" كما في "تغليق التعليق" لابن حجر 3/ 436، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1327)، وابن الجوزي في "المنتظم" 4/ 89 من طرق عن حماد بن سلمة، به. وبعضهم لا يذكر فيه قصة الدرع والوصايا.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (4/345)، ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابۃ" (250)، طبری نے "المعجم الکبیر" (1307)، اور ابو بکر البرقانی نے اپنی "مستخرج" (بحوالہ تغلیق التعلیق لابن حجر 3/436) میں، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (1327) میں اور ابن الجوزي نے "المنتظم" (4/89) میں حماد بن سلمہ سے مختلف طرق کے ساتھ کی ہے۔ ان میں سے بعض نے اس میں "درع" (زرہ) اور وصیتوں کا قصہ ذکر نہیں کیا۔
وقد علَّقه البخاري بصيغة الجزم بإثر الحديث (2845) عن حماد عن ثابت عن أنس، ولم يسُق لفظه.
🔍 فنی نکتہ: امام بخاری نے حدیث نمبر (2845) کے بعد اسے "صیغۂ جزم" (یقین کے الفاظ) کے ساتھ معلقاً ذکر کیا ہے جو حماد عن ثابت عن انس سے مروی ہے، لیکن انہوں نے اس کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
وأخرج منه قصة إقدامه يوم اليمامة واستشهاده دون سائر الحديث أحمدُ 19/ (2399)، وابن حبان (7168) من طريق سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس.
🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد (19/2399) اور ابن حبان (7168) نے سلیمان بن مغیرہ عن ثابت عن انس کے طریق سے اس حدیث میں سے صرف جنگ یمامہ میں ان کے آگے بڑھنے اور شہید ہونے کا واقعہ روایت کیا ہے، باقی حدیث ذکر نہیں کی۔