المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
284. طليب بن عمير القرشي
سیدنا طلیب بن عمیر قرشی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 5124
قال محمد بن عمر: وحدثني جعفر بن محمد بن خالد، عن إبراهيم بن عُقبة، عن أم خالد بنت خالد قالت: قَدِمَ علينا عمِّي عمرو بن سعيد أرضَ الحبشة بعد مَقدم أبي بسنَتين (2) فلم يَزلْ هُنالِك، حتى حُمل في السفينتَين مع أصحابِ رسول الله ﷺ، فقَدِمُوا على النبيِّ ﷺ وهو بخَيبر سنةَ سبعٍ من الهجرة، فشهِد عَمرو مع النبيِّ ﷺ الفتحَ وحُنين (1) والطائفَ وتَبوكَ، فلما خرج الجنودُ (2) إلى الشام كان فيمن خرج، فقُتل يوم أجْنادين شهيدًا في خلافة أبي بكر الصّدّيق في جُمادى الأولى سنة ثلاثَ عشرةَ، وكان على الناس يومئذ عمرو بن العاص (3) .
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5124]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5124 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: سفيان، وأثبتناه على الصواب من (ص) و (م)، وهو الموافق لما في "الطبقات" لابن سعد 4/ 95 عن محمد بن عمر - وهو الواقدي - بسنده هذا الذي هنا. وفي "تاريخ دمشق" لابن عساكر 46/ 21، وفي "أسد الغابة" 3/ 727: بيسير.
🔍 تصحیحِ متن: نسخہ (ز) اور (ب) میں (نام) تحریف ہو کر "سفیان" بن گیا تھا، ہم نے اسے نسخہ (ص) اور (م) سے درست کر کے ثبت کیا ہے، اور یہی ابن سعد کی "الطبقات" (4/95) کے موافق ہے جو محمد بن عمر (واقدی) سے اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (46/21) اور "اسد الغابۃ" (3/727) میں یہ نام "بیسیر" (یا بیسر) درج ہے۔
(1) كذلك جاءت في نسخنا الخطية: حنين، ممنوعة من الصرف للتأنيث، على إرادة الواقعة، ويجوز أن تكون على لغة ربيعة وغَنْم بأن تكون منصوبة في اللفظ إلّا أنها تكتب بغير ألف للنصب.
📝 لغوی تحقیق: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "حنین" اسی طرح (غیر منصرف) آیا ہے، یعنی "واقعہ" (الواقعۃ) کی تاویل میں اسے مؤنث مان کر غیر منصرف پڑھا گیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ قبیلہ ربیعہ اور غنم کی لغت پر ہو، جس میں حالتِ نصب میں بھی اسے بغیر الف کے لکھا جاتا ہے۔
(2) في (ز) و (ع) و (ب): اليهود، والظاهر أنها تحريف عن الجنود، إذ لا معنى لذكر اليهود هنا، وكأنها كانت كذلك في (ص) ثم صوّبت إلى الجدود، وكذلك كانت في (م) ثم صوِّبت إلى الجنود، وهذا هو المناسب للمقام، وفي "الطبقات الكبرى" لابن سعد: فلما خرج المسلمون.
🔍 تصحیحِ متن: نسخہ (ز)، (ع) اور (ب) میں لفظ "یہود" ہے، بظاہر یہ لفظ "جنود" (لشکر) سے تحریف شدہ ہے، کیونکہ یہاں یہود کے ذکر کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ ایسا لگتا ہے کہ نسخہ (ص) میں بھی ایسا ہی تھا پھر اسے "الجدود" سے درست کیا گیا، اور نسخہ (م) میں بھی ایسا ہی تھا پھر اسے "الجنود" سے درست کیا گیا، اور یہی سیاق و سباق کے مناسب ہے۔ جبکہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" میں الفاظ ہیں: "جب مسلمان نکلے..."۔
(3) قد اختُلف في زمن وموضع استشهاد عمرو بن سعيد العاص، فبعضهم قال: استشهد يوم أجنادين، وبعضم قال: يوم مرج الصُّفّر، وبعضهم قال: يوم اليرموك. انظر الخلاف في ذلك في "تاريخ دمشق" 46/ 21 - 24 وإن كان الأكثرون على أنه قتل يوم أجنادين.
🔍 اختلافِ روایت: عمرو بن سعید العاص کی شہادت کے وقت اور مقام میں اختلاف ہے؛ بعض نے کہا وہ "اجنادین" کے دن شہید ہوئے، بعض نے "مرج الصُّفّر" کا کہا، اور بعض نے "یرموک" کا کہا۔ اس اختلاف کی تفصیل کے لیے "تاریخ دمشق" (46/21-24) دیکھیں۔ اگرچہ اکثریت کی رائے یہی ہے کہ وہ اجنادین کے دن شہید ہوئے۔