المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
292. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد) کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5142
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حسين بن محمد المرُّوْذِي، حدثنا عبد الله بن عبد الملك الفِهْري، حدثنا القاسم بن محمد بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي بكر، قال: جئتُ بأبي قُحافةَ إلى رسول الله ﷺ، فقال:"هَلّا تركتَ الشيخَ حتى آتيهَ؟" فقلت: بل هو أحقُّ أن يأتيَك، قال:"إنا لَنحفَظُه لأيادي ابنه عندَنا" (5) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5065 - عبد الله بن عبد الملك الفهري منكر الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5065 - عبد الله بن عبد الملك الفهري منكر الحديث
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابوقحافہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان بزرگ کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا کہ میں خود ان کے پاس آ جاتا؟“ میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) بلکہ وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہم ان کے بیٹے (ابوبکر) کے ہمارے اوپر احسانات کی وجہ سے ان کا لحاظ اور احترام کرتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5142]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: "إنا لنحفظه … " إلخ، وهذا إسناد ضعيف، قال الذهبي في "تلخيصه": عبد الله منكر الحديث والقاسم لم يُدرك أباه، ولا أبوه أبا بكر. قلنا: لكن له شواهد يصحُّ بها الخبر.» [ترقيم الرساله 5142] [ترقيم الشركة 5098] [ترقيم العلميه 5065]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: "إنا لنحفظه … " إلخ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5142 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) صحيح لغيره دون قوله: "إنا لنحفظه … " إلخ، وهذا إسناد ضعيف، قال الذهبي في "تلخيصه": عبد الله منكر الحديث والقاسم لم يُدرك أباه، ولا أبوه أبا بكر. قلنا: لكن له شواهد يصحُّ بها الخبر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، سوائے اس قول کے: "انا لنحفظہ..." (الخ)۔ یہ سند "ضعیف" ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا: "عبد اللہ منکر الحدیث ہے، اور قاسم نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور نہ ان کے والد نے ابوبکر ؓ کو پایا۔" ہم کہتے ہیں: لیکن اس خبر کے ایسے "شواہد" موجود ہیں جن سے یہ صحیح ثابت ہوتی ہے۔
وأخرجه البزار (79)، وأبو نعيم في "فضائل الخلفاء الراشدين" (69) من طريق إبراهيم بن سعيد الجوهري، عن الحسين بن محمد المرُّوذي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (79) اور ابو نعیم نے "فضائل الخلفاء الراشدین" (69) میں ابراہیم بن سعید الجوہری عن الحسین بن محمد المروذی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أنس بن مالك الذي قبله.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد (تائیدی روایت) انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے جو اس سے پہلے گزری ہے۔
وحديثُ أسماء بنت أبي بكر الذي تقدَّم عند المصنف برقم (4411) وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسماء بنت ابی بکر ؓ کی حدیث بھی اس کی شاہد ہے جو مصنف کے پاس نمبر (4411) پر گزر چکی ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5142 in Urdu