المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
306. التعوذ من عذاب القبر
عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 5168
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان، حدثنا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد، سمعت أبي يَذكُر عن عمِّه خالد بن سعيد الأكبر: أنه قَدِمَ على رسولِ الله ﷺ حين قَدِم من أرض الحبشة ومعه ابنتُه أم خالد، فجاء بها إلى رسول الله ﷺ وعليها قَميصٌ أصفَرُ، وقد أعجَبَ الجاريةَ قميصُها، وقد كانت فَهمتْ بعضَ كلام الحبشة، فراطَنَها رسولُ الله ﷺ بكلامِ الحبشة:"سَنَهْ سَنَهْ" وهي بالحبشة: حَسَن حَسَن، ثم قال لها رسولُ الله ﷺ:"أَبلِي وأَخلِقي، أَبلي وأَخلِقي" - قال: فأبلَتْ واللهِ ثم أخلَفَتْ - ثم مالَتْ إلى ظَهْر رسول الله ﷺ، فوضعت يدَها على مَوضِع خاتَم النُّبوّة، فأخذها أبوها، فقال رسول الله ﷺ:"دَعُها" (1) . صحيح الإسناد، فقد اتفق الشيخان على إخراج أحاديثَ لإسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد عن آبائه وعُمومته، وهذه أمُّ خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص التي حملها أبوها صغيرةً إلى رسول الله ﷺ، صَحِبَتْ بعد ذلك رسولَ الله ﷺ، وقد رَوَتْ عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5090 - لكنه منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5090 - لكنه منقطع
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حبشہ سے واپس لوٹے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت ان کی صاحبزادی سیدنا ام خالد بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اور انہوں نے زرد رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی، اور یہ قمیص اس لڑکی کو بہت پسند تھی، اور یہ لڑکی کچھ کچھ حبشی زبان بھی سمجھتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی زبان میں اس لڑکی کو کہا: سنہ سنہ۔ حبشی زبان میں اس کا مطلب ہے ” خوبصورت، خوبصورت “۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا: اس کو پہن پہن کر بوسیدہ کر دو، (راوی کہتے ہیں: اس نے واقعی وہ کپڑے پہن پہن کر بوسیدہ کر دیئے تھے) پھر وہ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی جانب ہوئی اور مہر نبوت کو چھو لیا۔ ان کے والد سیدنا خالد بن سعید ان کو پکڑ کر ہٹانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید کی ان کے آباء اور چچوں کے بارے میں حدیث نقل کی ہے۔ اور یہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص وہی ہیں جن کو ان کے والد نے بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا تھا، اس کے بعد وہ بارگاہ رسالت میں ہی رہیں۔ اور ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ احادیث بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5168]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5168 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن عمرو بن سعيد ما أدرك خالدًا فيما قاله الذهبي في "تلخيصه". وقد روى سعيد بن عمرو مثل هذا الخبر عن أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص، وسماعه منها صحيح، وروى قصة القميص منه دون قصة خاتم النبوة إسحاقُ بنُ سعيد أخو خالد عن أبيه عن أم خالد كما تقدَّم برقم (2398) و (4294)، فهذا هو الصحيح في رواية الحديث أنه من رواية سعيد بن عمرو عن أم خالد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح" ہے، جبکہ یہ سند جس کے راوی ثقہ ہیں، "منقطع" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ سعید بن عمرو بن سعید نے خالد کو نہیں پایا، جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا ہے۔ البتہ سعید بن عمرو نے اسی جیسی خبر "ام خالد بنت خالد بن سعید" سے بھی روایت کی ہے اور ان سے سعید کا سماع صحیح ہے۔ قمیص والا قصہ (بغیر مہرِ نبوت کے قصے کے) اسحاق بن سعید (خالد کے بھائی) نے اپنے والد سے اور انہوں نے ام خالد سے روایت کیا ہے جیسا کہ نمبر (2398) اور (4294) پر گزر چکا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: پس اس حدیث کی روایت میں یہی صحیح ہے کہ یہ سعید بن عمرو کی ام خالد سے روایت ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (4117) عن محمد بن عبد الله الحضرمي وعبد الله بن أحمد بن حنبل، عن عبد الله بن عمر بن أبان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4117) میں محمد بن عبداللہ الحضرمی اور عبداللہ بن احمد بن حنبل سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر بن ابان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك (4117) من طريق يحيى الحماني، عن خالد بن سعيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسی طرح (4117) میں یحییٰ الحمانی کے طریق سے، انہوں نے خالد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (3071) و (5993) من طريق عبد الله بن المبارك، عن خالد بن سعيد، عن أبيه، عن أم خالد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے صحیح بخاری (3071، 5993) میں عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے خالد بن سعید سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ام خالد سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (7579).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو آگے نمبر (7579) پر آئے گا اسے دیکھ لیں۔