🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
306. التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5168
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان، حدثنا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد، سمعت أبي يَذكُر عن عمِّه خالد بن سعيد الأكبر: أنه قَدِمَ على رسولِ الله ﷺ حين قَدِم من أرض الحبشة ومعه ابنتُه أم خالد، فجاء بها إلى رسول الله ﷺ وعليها قَميصٌ أصفَرُ، وقد أعجَبَ الجاريةَ قميصُها، وقد كانت فَهمتْ بعضَ كلام الحبشة، فراطَنَها رسولُ الله ﷺ بكلامِ الحبشة:"سَنَهْ سَنَهْ" وهي بالحبشة: حَسَن حَسَن، ثم قال لها رسولُ الله ﷺ:"أَبلِي وأَخلِقي، أَبلي وأَخلِقي" - قال: فأبلَتْ واللهِ ثم أخلَفَتْ - ثم مالَتْ إلى ظَهْر رسول الله ﷺ، فوضعت يدَها على مَوضِع خاتَم النُّبوّة، فأخذها أبوها، فقال رسول الله ﷺ:"دَعُها" (1) . صحيح الإسناد، فقد اتفق الشيخان على إخراج أحاديثَ لإسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد عن آبائه وعُمومته، وهذه أمُّ خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص التي حملها أبوها صغيرةً إلى رسول الله ﷺ، صَحِبَتْ بعد ذلك رسولَ الله ﷺ، وقد رَوَتْ عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5090 - لكنه منقطع
خالد بن سعید بن عمرو بن سعید اپنے چچا خالد بن سعید اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ حبشہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی ام خالد بھی تھیں، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو انہوں نے زرد رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی جو اس بچی کو بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی، وہ حبشہ کی زبان کے کچھ الفاظ سمجھتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حبشی زبان میں خوش طبعی فرماتے ہوئے کہا: «سَنَهْ سَنَهْ» جس کا حبشی زبان میں مطلب اچھا، اچھا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے طویل عمری کی دعا فرماتے ہوئے فرمایا: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي، أَبْلِي وَأَخْلِقِي» تم اسے پرانا کرو اور بوسیدہ کرو، تم اسے پرانا کرو اور بوسیدہ کرو، راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! انہوں نے ان کپڑوں کو خوب پرانا کیا اور پھر نئے کپڑے پہننے کی سعادت پائی، پھر وہ بچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی طرف مائل ہوئی اور مہرِ نبوت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، ان کے والد نے انہیں روکنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو (کچھ نہ کہو)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، کیونکہ شیخین نے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید کی اپنے آباؤ اجداد اور چچاؤں سے مروی احادیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے، اور یہ وہی ام خالد بنت خالد بن سعید بن العاص ہیں جنہیں ان کے والد بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی اور آپ سے احادیث بھی روایت کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5168]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن عمرو بن سعيد ما أدرك خالدًا فيما قاله الذهبي في "تلخيصه". وقد روى سعيد بن عمرو مثل هذا الخبر عن أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص، وسماعه منها صحيح، وروى قصة القميص منه دون قصة خاتم النبوة ...» [ترقيم الرساله 5168] [ترقيم الشركة 5123] [ترقيم العلميه 5090]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5168 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن عمرو بن سعيد ما أدرك خالدًا فيما قاله الذهبي في "تلخيصه". وقد روى سعيد بن عمرو مثل هذا الخبر عن أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص، وسماعه منها صحيح، وروى قصة القميص منه دون قصة خاتم النبوة إسحاقُ بنُ سعيد أخو خالد عن أبيه عن أم خالد كما تقدَّم برقم (2398) و (4294)، فهذا هو الصحيح في رواية الحديث أنه من رواية سعيد بن عمرو عن أم خالد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح" ہے، جبکہ یہ سند جس کے راوی ثقہ ہیں، "منقطع" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ سعید بن عمرو بن سعید نے خالد کو نہیں پایا، جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا ہے۔ البتہ سعید بن عمرو نے اسی جیسی خبر "ام خالد بنت خالد بن سعید" سے بھی روایت کی ہے اور ان سے سعید کا سماع صحیح ہے۔ قمیص والا قصہ (بغیر مہرِ نبوت کے قصے کے) اسحاق بن سعید (خالد کے بھائی) نے اپنے والد سے اور انہوں نے ام خالد سے روایت کیا ہے جیسا کہ نمبر (2398) اور (4294) پر گزر چکا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: پس اس حدیث کی روایت میں یہی صحیح ہے کہ یہ سعید بن عمرو کی ام خالد سے روایت ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (4117) عن محمد بن عبد الله الحضرمي وعبد الله بن أحمد بن حنبل، عن عبد الله بن عمر بن أبان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4117) میں محمد بن عبداللہ الحضرمی اور عبداللہ بن احمد بن حنبل سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر بن ابان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك (4117) من طريق يحيى الحماني، عن خالد بن سعيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسی طرح (4117) میں یحییٰ الحمانی کے طریق سے، انہوں نے خالد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (3071) و (5993) من طريق عبد الله بن المبارك، عن خالد بن سعيد، عن أبيه، عن أم خالد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے صحیح بخاری (3071، 5993) میں عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے خالد بن سعید سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ام خالد سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (7579).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو آگے نمبر (7579) پر آئے گا اسے دیکھ لیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5168 in Urdu