المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
307. ذكر صفوان بن مخرمة الزهري
سیدنا صفوان بن مخرمہ زہری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5169
حدثني بصحّة ذلك أبو بكر بن داود وأبو محمد البَلَاذُري الحافظ وأبو سعيد الثقفي، قالوا: حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا سهل بن عثمان العَسْكري، حدثنا جُنادة بن سَلْم (2) القُرشي، عن عُبيد الله بن عمر، سمعت أمَّ خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص الأكبر تقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يَتعوَّذ من عذابِ القبر (1) . ذكرُ صفوانَ بن مَخرَمة الزُّهري
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5169]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5169 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (م) و (ب): سالم، وكانت في (ص): سلم، ثم رُمِّجت وكُتب في هامشها: سالم، بخط مغاير، والصحيح ما كان في أصل (ص) وفاقًا لما في (ز). ونسبته قُرشيًا مما لم نقف عليه إلّا هنا، مع أنَّ المعروف أنه سُوائيٌّ عامريٌّ من هوازن، لكنهم كانوا حُلَفاء بني زُهرة بن كلاب القرشيِّين كما في ترجمة جابر بن سمرة السُّوائي في "طبقات ابن سعد" 8/ 146، وجابر أحدُ أجداد جُنادة بن سَلْم هذا، فظهر بذلك صحة نسبته قُرشيًا للحِلف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) اور (ب) میں "سالم" ہے، جبکہ (ص) میں پہلے "سلم" تھا، پھر اسے مٹایا گیا اور حاشیہ میں دوسری لکھائی سے "سالم" لکھ دیا گیا۔ صحیح وہی ہے جو (ص) کی اصل میں تھا اور جو (ز) کے موافق ہے (یعنی سلم)۔ ان کی نسبت "قرشی" ہمیں سوائے یہاں کے کہیں نہیں ملی، حالانکہ معروف یہ ہے کہ وہ "سوائی، عامری، ہوازنی" ہیں، لیکن وہ بنو زہرہ بن کلاب القرشی کے "حلیف" تھے، جیسا کہ جابر بن سمرہ السوائی کے حالات میں "طبقات ابن سعد" [8/ 146] میں ہے۔ اور جابر، اس جنادہ بن سلم کے اجداد میں سے ہیں۔ لہٰذا حلیف ہونے کی وجہ سے ان کی نسبت "قرشی" صحیح ثابت ہوتی ہے۔