المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
310. ذكر مناقب سعد بن عبادة الخزرجي النقيب رضى الله عنه
سیدنا سعد بن عبادہ خزرجی، نقیب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5173
فحدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثني محمد بن عمر، قال: ثم إِنَّ سَلَمة بن هشام أفْلَتَ بعد ذلك، فلَحِقَ برسول الله ﷺ بالمدينة، وذلك بعد الخَندق، فقالت أمُّه ضُبَاعة بنت عامر بن قُرْط (2) بن سَلَمة بن قُشير بن كَعْب بن عامر بن ربيعة: اللهُمَّ ربَّ الكعبةِ المُحرَّمَهْ … أَظهِرْ على كُلِّ عدوٍّ سَلَمهْ لَه يَدانِ في الأمورِ المُبهَمَهْ … كَفٌّ بها يُعطِي وكَفٌّ مُنعِمهْ فلم يَزَل مع رسول الله ﷺ حتى قَبِض رسولُ الله ﷺ، فخرج مع المسلمين إلى الشام حين بَعَث أبو بكر الجيوشَ لجهاد الرُّوم، فقُتل سَلَمةُ شهيدًا بمَرْج الصُّفَّر في المُحرَّم سنةَ أربعَ عشرةَ في خِلافة عُمر ﵁ (1) . ذكرُ مناقب سعد بن عُبادة الخَزْرجي النَّقِيب ﵁ -
محمد بن عمر فرماتے ہیں: پھر اس کے بعد سیدنا سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ چھوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ شریف میں آ گئے۔ اور یہ جنگ خندق کے بعد کا واقعہ ہے۔ ان کی والدہ ضباعہ بنت عامر بن قرظ بن سلمہ بن قشیر بن کعب بن عامر بن ربیعہ نے یہ اشعار کہے۔ ” عزت والے کعبہ کے رب سلمہ کو تمام دشمنوں پر غالب کر، مبہم امور میں ان کے دو ہاتھ ہوتے ہیں ایک ہاتھ سے عطا کرتے ہیں اور ایک ہاتھ انعام عطا کرنے والا ہوتا ہے “۔ پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے۔ پھر جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ملک روم کی جانب فوجیں بھیجیں تو یہ ان کے ہمراہ گئے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سن 14 ہجری میں محرم الحرام کے مہینے میں مرج الصفر میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5173]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5173 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: قسيط، والتصويب من ترجمتها في كتب الصحابة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "قسیط" ہو گیا ہے، درست نام کتب صحابہ میں ان کے حالات سے لیا گیا ہے۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 4/ 122 عن محمد بن عمر الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات" [4/ 122] میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔