المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
343. التمسوا العلم عند أربعة
چار اشخاص سے علم حاصل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 5263
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا شاذُّ بن الفَيّاض، حدثنا أبو قَحْذَمٍ النَّضْر بن مَعبَد، عن أبي قِلَابة، عن ابن عمر، قال: مَرّ عمرُ بمعاذِ بن جَبَل وهو يَبكي، فقال: ما يُبكِيكَ؟ فقال: حديثٌ سمعتُه من رسول الله ﷺ:"إنَّ أدنَى الرِّياء شِركٌ، وأحبَّ العَبيد إلى الله ﵎ الأتقياءُ الأخفِياءُ، الذين إذا غابُوا لم يُفتَقَدوا، وإذا شَهِدوا لم يُعرَفوا، أولئك أئمةُ الهُدى ومَصابيحُ العِلم" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5182 - أبو قحذم قال أبو حاتم لا يكتب حديثه وقال النسائي ليس بثقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5182 - أبو قحذم قال أبو حاتم لا يكتب حديثه وقال النسائي ليس بثقة
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رو رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رونے کی وجہ دریافت کی۔ تو انہوں نے کہا: ایک حدیث ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی ہے (وہ یہ ہے) چھوٹے سے چھوٹا ریاء بھی شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند وہ لوگ ہیں جو متقی اور پرہیزگار ہیں اور ان کی عبادات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں، وہ کسی محفل سے غائب ہوں تو کوئی ان کی کمی محسوس نہیں کرتا، اور کسی محفل میں موجود ہوں تو کوئی پہچانتا نہیں ہے، یہی لوگ ہدایت کے امام ہیں اور علم کے شمعیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5263]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5263 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف بمرةٍ كما تقدَّم بيانه برقم (4).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث ان شاء اللہ "حسن" ہے، لیکن یہ والی سند انتہائی ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (4) کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4950)، وفي "الكبير" 20/ (53)، وابن عدي في "الكامل" 7/ 24، وأبو نُعيم في "حلية الأولياء" 1/ 15، وفي "معرفة الصحابة" (5959)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1298)، والبيهقي في "الزهد" (195) من طرق عن شادّ بن الفيّاض، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الاوسط" (4950) اور "المعجم الکبیر" (20/ 53) میں، ابن عدی نے "الکامل" (7/ 24) میں، ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" (1/ 15) اور "معرفۃ الصحابۃ" (5959) میں، قضاعی نے "مسند الشہاب" (1298) میں، اور بیہقی نے "الزہد" (195) میں شادّ بن الفیاض سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے تخریج کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (8131).
📖 حوالہ / مصدر: (مزید تفصیل کے لیے) وہ دیکھیں جو آگے نمبر (8131) پر آئے گا۔