🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
344. معاذ بن جبل أعلم الأولين والآخرين
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اولین و آخرین میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5264
أخبرنا أبو نُعيم محمد بن عبد الرحمن بن نَصْر الغِفاري بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن مُعاوية بن صالح، عن رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن يزيد بن عَمِيرة، قال: لما حَضَرَ معاذَ بنَ جَبَل الموتُ قيل له: أَوصِنا يا أبا عبد الرحمن، قال: أجلسوني، فإنَّ العلمَ والإيمانَ مكانَهما، مَن ابتَغاهُما وَجَدَهُما - يقول ذلك ثلاثَ مَرّات - فالتمِسُوا العلمَ عند أربعةٍ: عند عُويمِر أبي الدَّرْداء، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن مسعود، وعند عبد الله بن سَلَام الذي كان يهوديًا فأسلم، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5183 - صحيح
یزید بن عمیر فرماتے ہیں: جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہمیں کوئی وصیت فرما دیں۔ انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، (جب وہ بیٹھ گئے تو کہنے لگے) علم اور ایمان اکٹھے رہتے ہیں جو ان دونوں کو ڈھونڈتا ہے یہ اس کو مل جاتے ہیں، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی۔ (پھر فرمایا) چار آدمیوں کے پاس علم ڈھونڈو۔ * سیدنا عویمر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس۔ * سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس۔ * سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس۔ * سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس۔ (یہ پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہو گئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں فرماتے سنا ہے یہ جنت میں جانے والے دس آدمیوں میں سے ایک ہیں۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5264]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5264 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. الليث: هو ابن سعد، وأبو إدريس الخَولاني: هو عائذ الله بن عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "لیث" سے مراد: لیث بن سعد ہیں، اور "ابو ادریس الخولانی" سے مراد: عائذ اللہ بن عبد اللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22104)، والترمذي (3804)، والنسائي (8196) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 22104)، ترمذی (3804) اور نسائی (8196) نے قتیبہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (338) من طريقين آخرين عن معاوية بن صالح.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (338) کے تحت معاویہ بن صالح سے دو دیگر طرق کے ساتھ گزر چکی ہے۔
وسيأتي برقم (5867) من طريق يحيى بن عبد الله بن بُكَير عن الليث بن سعد.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (5867) کے تحت یحییٰ بن عبد اللہ بن بُکیر کے طریق سے آئے گی جو لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔