المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
368. أول من أظهر إسلامه سبعة
سب سے پہلے کھلم کھلا اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد تھے
حدیث نمبر: 5321
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحُسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: إِنَّ أولَ مَن أظهرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمارٌ وأمُّه سُمَيّةُ وصُهيبٌ والمِقدادُ، وبلالٌ، فأما رسول الله ﷺ، فمنَعَه اللهُ بعَمِّه أبي طالب، وأما أبو بكر فمنَعَه الله تعالى بقومِه، وأما سائرُهم فأخذَهم المشركون فألبَسُوهم أدراعَ الحديد، وأوقَفُوهم في الشمس، فما من أحدٍ إِلَّا قد واتاهُم (1) كلَّ ما أرادوا غيرَ بلال، فإنه هانَتْ عليه نفسُه في الله ﷿، وهانَ على قومِه، فأعطَوه الوِلْدانَ، فجَعَلوا يَطُوفون به في شِعابِ مكةَ، وجعل يقول: أحَدٌ أَحَدٌ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5238 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5238 - صحيح
سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام ظاہر کیا وہ سات آدمی ہیں۔ ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ان کے چچا ابوطالب نے کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان کی قوم نے کیا۔ ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ تھے ان کو مشرکین نے پکڑ کر لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر سخت دھوپ میں ڈال دیا، ان میں سے ہر شخص نے اپنی ہمت کے مطابق اپنا دفاع کیا سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے، کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں مسکین بنا لیا اور لوگوں کے سامنے بھی مسکین بن کر رہے۔ لوگوں نے ان کو بچوں کے سپرد کر دیا وہ ان کو مکہ کی گلی کوچوں میں گھماتے رہتے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ” احد، احد “ کی صدائیں بلند کرتے رہتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5321]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5321 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (ب): آتاهم، وهو كذلك عند البيهقي في "سننه الكبرى" 8/ 209، وفي "دلائل النبوة" 2/ 281 عن أبي عبد الله الحاكم، بسنده هذا، وهما لغتان.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (ب) میں یہ لفظ "آتاہم" ہے، اور اسی طرح بیہقی کے ہاں "السنن الکبریٰ" (8/ 209) اور "دلائل النبوۃ" (2/ 281) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں (آتاہم اور أتاہم) لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود - فهو صدوق حسن الحديث. زائدة: هو ابن قدامة، وزِرٌّ: هو ابن حُبيش وعبد الله: هو ابن مسعود الهُذلي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "عاصم" (جو ابن ابی النَّجود ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے، وہ "صدوق" اور "حسن الحدیث" ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "زائدہ" سے مراد: ابن قدامہ ہیں، "زِرّ" سے مراد: ابن حُبیش ہیں، اور "عبد اللہ" سے مراد: ابن مسعود الہذلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 6/ (3832)، وابن ماجَهْ (150)، وابن حبان (7083) من طريق يحيى بن أبي بُكَير، عن زائدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6/ 3832)، ابن ماجہ (150) اور ابن حبان (7083) نے یحییٰ بن ابی بُکیر کے طریق سے، انہوں نے زائدہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5579) من طريق معاوية بن عمرو عن زائدة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں آگے نمبر (5579) پر معاویہ بن عمرو کے طریق سے آئے گی جو زائدہ سے روایت کرتے ہیں۔