🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
368. أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ
سب سے پہلے کھلم کھلا اسلام ظاہر کرنے والے سات افراد تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5321
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحُسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: إِنَّ أولَ مَن أظهرَ إسلامَه سبعةٌ: رسولُ الله ﷺ وأبو بكر وعمارٌ وأمُّه سُمَيّةُ وصُهيبٌ والمِقدادُ، وبلالٌ، فأما رسول الله ﷺ، فمنَعَه اللهُ بعَمِّه أبي طالب، وأما أبو بكر فمنَعَه الله تعالى بقومِه، وأما سائرُهم فأخذَهم المشركون فألبَسُوهم أدراعَ الحديد، وأوقَفُوهم في الشمس، فما من أحدٍ إِلَّا قد واتاهُم (1) كلَّ ما أرادوا غيرَ بلال، فإنه هانَتْ عليه نفسُه في الله ﷿، وهانَ على قومِه، فأعطَوه الوِلْدانَ، فجَعَلوا يَطُوفون به في شِعابِ مكةَ، وجعل يقول: أحَدٌ أَحَدٌ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5238 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات افراد تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، مقداد اور بلال (رضی اللہ عنہم)۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ نے ان کے چچا ابوطالب کے ذریعے حفاظت فرمائی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ان کی قوم کے ذریعے حفاظت فرمائی، لیکن باقی لوگوں کو مشرکین نے پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنائیں اور تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیا، ان میں سے ہر ایک نے (تکلیف کی شدت سے) ان کی مرضی کے مطابق بات کر دی سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ انہوں نے اللہ کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور ان کی قوم کی نظر میں بھی ان کی کوئی حیثیت نہ تھی، چنانچہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو بچوں کے حوالے کر دیا، وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور بلال رضی اللہ عنہ (زبان سے) کہتے رہتے: «احد احد» (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 5321] [ترقيم الشركة 5274] [ترقيم العلميه 5238]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5321 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (ب): آتاهم، وهو كذلك عند البيهقي في "سننه الكبرى" 8/ 209، وفي "دلائل النبوة" 2/ 281 عن أبي عبد الله الحاكم، بسنده هذا، وهما لغتان.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (ب) میں یہ لفظ "آتاہم" ہے، اور اسی طرح بیہقی کے ہاں "السنن الکبریٰ" (8/ 209) اور "دلائل النبوۃ" (2/ 281) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں (آتاہم اور أتاہم) لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود - فهو صدوق حسن الحديث. زائدة: هو ابن قدامة، وزِرٌّ: هو ابن حُبيش وعبد الله: هو ابن مسعود الهُذلي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "عاصم" (جو ابن ابی النَّجود ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے، وہ "صدوق" اور "حسن الحدیث" ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "زائدہ" سے مراد: ابن قدامہ ہیں، "زِرّ" سے مراد: ابن حُبیش ہیں، اور "عبد اللہ" سے مراد: ابن مسعود الہذلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 6/ (3832)، وابن ماجَهْ (150)، وابن حبان (7083) من طريق يحيى بن أبي بُكَير، عن زائدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6/ 3832)، ابن ماجہ (150) اور ابن حبان (7083) نے یحییٰ بن ابی بُکیر کے طریق سے، انہوں نے زائدہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5579) من طريق معاوية بن عمرو عن زائدة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں آگے نمبر (5579) پر معاویہ بن عمرو کے طریق سے آئے گی جو زائدہ سے روایت کرتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5321 in Urdu