🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
379. حكاية إضاءة عصا أسيد بن حضير فى ليلة ظلماء
اندھیری رات میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی لاٹھی کے روشن ہو جانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5342
حدثني محمد بن صالح ومحمد بن المؤمَّل ومحمد بن القاسم، قالوا: حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب وابن لَهِيعة، قالا: حدثنا عُمارة بن غَزِيّة، عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن أمِّه فاطمة بنت حُسين بن علي، عن عائشة، أنها قالت: كان أُسَيد بن حُضَير من أفاضل الناس، فكان يقول: لو أني أكونُ كما أكونُ مَحَلَّ حالٍ من أحوالٍ ثلاث، لكنتُ من أهل الجنة، وما شككتُ في ذلك: حين أقرأُ القرآنَ وحين أسمعهُ، وإذا سمعتُ خطبةَ رسول الله ﷺ، وإذا شهدتُ جِنازةً؛ فما شهدتُ جِنازةً قطُّ فحدَّثتُ نفسي سوى ما هو مفعولٌ بها، وما هي صائرةٌ إليه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5260 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سمجھدار اور بزرگ لوگوں میں سے تھے۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر میری حالت ہر وقت اسی طرح رہے جیسے تین موقعوں پر ہوتی ہے تو میں جنتی ہوں اور اس میں مجھے کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ (1) جب میں قرآن پڑھتا اور سنتا ہوں۔ (2) جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنتا ہوں۔ (3) جب میں جنازہ میں شرکت کرتا ہوں۔ میں جب بھی جنازہ میں شرکت کرتا ہوں تو جو معاملات میت کے ساتھ ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب میرے دل میں تازہ ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5342]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5342 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده فيه لِينٌ من أجل محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان - وهو ابن عفان - فهو إلى الضعف أقرب. يحيى بن أيوب هو الغافقي المصري، وابن لَهِيعة: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے جس کی وجہ "محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان" (بن عفان) ہیں، وہ "ضعف" کے زیادہ قریب ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "یحییٰ بن ایوب" سے مراد: الغافقی المصری ہیں، اور "ابن لہیعہ" سے مراد: عبد اللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19093) من طريق عبد الله بن المبارك، عن يحيى بن أيوب وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/ 19093) نے عبد اللہ بن المبارک کے طریق سے، انہوں نے تنہا یحییٰ بن ایوب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد روي نحوه لكن من قول سعد بن معاذ عند ابن أبي شيبة 13/ 377، والطبراني في "الكبير" (5321) و (5322)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (2894) وغيرهم بسند رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت سعد بن معاذ کے قول سے ابن ابی شیبہ (13/ 377)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (5321, 5322) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (2894) وغیرہ میں ایسی سند کے ساتھ روایت کی ہے جس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، لیکن وہ "مرسل" ہے۔