المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. الوضوء مرتين مرتين ومرة مرة
وضو دو دو یا ایک ایک بار اعضا دھونے سے بھی مکمل ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 540
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا زيد بن الحُبَاب. وأخبرني محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، حدثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي.... (2) ، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، حدثني عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ توضَّأَ مرَّتين مرَّتين (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المرسَل المشهور عن معاوية بن قُرَّة عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ توضأ مرةً مرةً، ثم قال:"هذا وظيفةُ الوضوء"، ثم توضأ مرتين مرتين فقال:"هذا الوسَطُ من الوضوء الذي يُضاعِفُ الله الأجرَ لصاحبه مرتين" الحديث بطوله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 533 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المرسَل المشهور عن معاوية بن قُرَّة عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ توضأ مرةً مرةً، ثم قال:"هذا وظيفةُ الوضوء"، ثم توضأ مرتين مرتين فقال:"هذا الوسَطُ من الوضوء الذي يُضاعِفُ الله الأجرَ لصاحبه مرتين" الحديث بطوله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 533 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء کو دو دو مرتبہ دھو کر وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور مرسل روایت ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وضو کی وہ مقدار ہے جس کے بغیر چارہ نہیں،“ پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وہ درمیانہ وضو ہے جس پر اللہ اجر کو دوگنا کر دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور مرسل روایت ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وضو کی وہ مقدار ہے جس کے بغیر چارہ نہیں،“ پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وہ درمیانہ وضو ہے جس پر اللہ اجر کو دوگنا کر دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 540 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هنا بياض في أصول "المستدرك" قدر سطر، فلعله أن يكون إسنادًا ثالثًا، إلّا أنَّ الحافظ ابن حجر لم يذكر في كتابه "إتحاف المهرة" 15/ 175 للحاكم إلّا إسنادي أبي العباس محمد بن يعقوب ومحمد بن الخليل الأصبهاني.
📌 اہم نکتہ: "المستدرک" کے اصل نسخوں میں یہاں ایک سطر کے برابر خالی جگہ ہے، شاید وہاں تیسری سند ہونی تھی، مگر حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (15/ 175) میں امام حاکم کی صرف دو ہی سندوں کا ذکر کیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 13/ (7877) و 14/ (8762)، وأبو داود (136)، والترمذي (43)، وابن حبان (1094) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 7877، 14/ 8762)، ابوداؤد (136)، ترمذی (43) اور ابن حبان (1094) نے زید بن الحباب کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث عبد الله بن زيد الأنصاري عند البخاري (158).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو صحیح بخاری (158) میں موجود ہے۔
(1) أخرجه ابن ماجه (419) من طريق عبد الرحيم بن زيد العمِّي، عن أبيه، عن معاوية بن قرة، عن ابن عمر. وإسناده ضعيف جدًّا، عدا عن انقطاعه بين معاوية بن قرة وابن عمر فيه عبد الرحيم بن زيد وهو متروك الحديث، وأبوه ضعيف. وانظر تتمة تخريجه عند ابن ماجه بتحقيقنا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: معاویہ بن قرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے، نیز اس کا راوی عبدالرحیم بن زید "متروک الحدیث" ہے اور اس کا باپ (زید العمی) بھی ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل ابن ماجہ کی ہماری تحقیق میں ملاحظہ فرمائیں۔