المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. الوضوء مرتين مرتين ومرة مرة
وضو دو دو یا ایک ایک بار اعضا دھونے سے بھی مکمل ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 541
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ مرةً مرةً، وجَمَعَ بين المضمضة والاستنشاق (2) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجا الجمع بين المضمضة والاستنشاق (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 534 - أخرجا أوله
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجا الجمع بين المضمضة والاستنشاق (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 534 - أخرجا أوله
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں (اعضاء کو) ایک ایک بار دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو ایک ساتھ (ایک ہی چلو سے) جمع فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو یکجا کرنے کا ذکر روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو یکجا کرنے کا ذکر روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 541 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي. أبو خليفة: هو الفضل بن الحُباب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابونام "ابو خلیفہ" سے مراد الفضل بن الحباب ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (1076) عن الفضل بن الحباب أبي خليفة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (1076) میں ابو خلیفہ الفضل بن الحباب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (140) مطوَّلًا من طريق سليمان بن بلال، عن زيد بن أسلم، به. ولفظه فيه: أخذ غرفةً من ماء فمضمض بها واستنشق. وهو من هذا الطريق عند أحمد 4/ (2416)، وانظر تمام تخريجه فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (140) میں اور امام احمد نے (4/ 2416) میں سلیمان بن بلال کے واسطے سے مفصل روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: بخاری کے الفاظ ہیں: "آپ ﷺ نے ایک چلو پانی لیا اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا"۔
وأخرجه بنحوه أحمد 3/ (2072)، والبخاري (157)، وأبو داود (138)، وابن ماجه (411)، والترمذي (42)، والنسائي (85)، وابن حبان (1095) من طريق سفيان الثوري، وأحمد 5/ (3113) من طريق معمر، كلاهما عن زيد بن أسلم به - دون قوله: وجمع بين المضمضة والاستنشاق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (157)، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے سفیان ثوری اور معمر بن راشد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان روایات میں "کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کو یکجا کیا" کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
(1) هذه الفِقْرة سقطت من (ب) والمطبوع. وقول الحاكم هذا مردود بتخريج البخاري للجمع بينهما كما سبق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عبارت نسخہ (ب) اور مطبوعہ سے ساقط ہے، اور امام حاکم کا یہ قول کہ "کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کو یکجا کرنے کا ذکر نہیں" مردود ہے کیونکہ امام بخاری نے اسے ثابت کیا ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔