المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
413. لا يقوم فى الصف الأول إلا المهاجرون والأنصار
پہلی صف میں صرف مہاجرین اور انصار ہی کھڑے ہوں گے
حدیث نمبر: 5407
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا الحسن بن بِشر البَجَلي، حدَّثنا الحكَم بن عبد الملك، عن قَتَادةَ، عن قيس بن عُبَادٍ، قال: شهدتُ المدينةَ، فلما أقيمتِ الصلاةُ تَقدّمتُ فقمتُ في الصفِّ الأول، فخرج عمر بن الخطاب، فشَقَّ الصُّفوفَ ثم تقدَّم، وخرج معه رجلٌ آدَمُ خفيفُ اللِّحيةِ، فنظر في وُجُوه القوم، فلما رآني دَفَعَني وقام مكاني، واشتدَّ ذلك عليَّ، فلما انصرف التفتَ إليَّ فقال: لا يَسُؤْك ولا يَحزُنُك، أشَقَّ عليك؟ إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يقومُ في الصفِّ الأولِ إِلَّا المُهاجرون والأنصار"، فقلت: مَن هذا؟ فقالوا: أبَيُّ بن كعب (2) .
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
سیدنا قیس بن عبادہ فرماتے ہیں: میں مدینہ شریف میں حاضر ہوا، جب نماز کے لئے اقامت ہو گئی، میں اگلی صف میں آ گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے آ گئے، ان کے ہمراہ ایک شخص تھا جس کی داڑھی میں بال کم تھے، انہوں نے آتے ہی لوگوں کی جانب دیکھا، جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو انہوں نے مجھے دھکا دے کر پیچھے کر دیا اور میری جگہ پر خود کھڑے ہو گئے، ان کا یہ عمل مجھے بہت ناگوار گزرا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ میری جانب متوجہ ہو کر بولے: میں نے تمہارے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تمہیں برا نہیں لگنا چاہئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن رکھا ہے کہ صف اول میں صرف مہاجرین اور انصار کھڑے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ“ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث قتادہ سے روایت کرنے میں حکم بن عبدالملک منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5407]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5407 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك - وهو القرشي البصري ثم الكوفي - وروى سعيدُ بنُ بشير بعضَ هذا الخبر عن قَتادةَ فقال: عن عبد الله بن الصامت عن أبي بن كعب. قال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "العلل" (210): ما أدري ما هذا الإسناد … ولا أعلم سمع قتادة من عبد الله بن الصامت، إنما يروي قتادة عن سعيد بن أبي الحسن عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت. قلنا: وسعيدُ بن بَشير فيه لين.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "حکم بن عبد الملک" (القرشی البصری ثم الکوفی) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ سعید بن بشیر نے اس خبر کا کچھ حصہ قتادہ سے روایت کیا تو کہا: "عن عبد اللہ بن الصامت عن ابی بن کعب"۔ ابو حاتم نے (بحوالہ العلل، ابن ابی حاتم 210) فرمایا: "میں نہیں جانتا کہ یہ کیسی سند ہے... اور مجھے علم نہیں کہ قتادہ نے عبد اللہ بن الصامت سے سنا ہو، قتادہ تو سعید بن ابی الحسن سے، وہ حمید بن ہلال سے اور وہ عبد اللہ بن الصامت سے روایت کرتے ہیں۔" ہم (محقق) کہتے ہیں: اور سعید بن بشیر میں "لین" (کمزوری) ہے۔
ثم في سماع قتادة من قيس بن عُبَاد نظر، فإنه لا يروي عنه إلا بواسطة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: پھر قتادہ کے قیس بن عباد سے سماع میں "نظر" (شک) ہے، کیونکہ وہ ان سے واسطے کے بغیر روایت نہیں کرتے۔
وقد روى أبو مِجلَزْ هذا الخبر بنحوه عن قيس بن عُباد كما تقدَّم عند المصنِّف برقم (873) بإسناد صحيح، بلفظ: يا فتى، لا يسوؤك الله، إنَّ هذا عهدُ النبي ﷺ إلينا: أن نَلِيَه.
🧾 تفصیلِ روایت: ابو مجلز نے یہ خبر اسی طرح قیس بن عباد سے روایت کی ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (873) پر صحیح سند کے ساتھ گزر چکا ہے، ان الفاظ کے ساتھ: "اے نوجوان! اللہ تمہیں غمگین نہ کرے، یہ نبی ﷺ کا ہم سے عہد ہے کہ: ہم (نماز میں) ان کے قریب رہیں۔"
لكن رواه بمثل لفظ قتادة هنا بذكر المهاجرين والأنصار خالدٌ الحذاء عند عبد الرزاق في "مصنفه" (2460) ومن طريقه أخرجه الطبراني في "الأوسط" (3006)، يرويه خالدٌ عن قيس بن عُباد، لكنَّ خالدًا لم يُدرك قيس بن عُباد.
🧾 تفصیلِ روایت: لیکن اسے یہاں قتادہ کے الفاظ کی مثل (مہاجرین اور انصار کے ذکر کے ساتھ) خالد الحذاء نے روایت کیا ہے جو عبد الرزاق کی "المصنف" (2460) میں ہے اور ان کے طریق سے طبرانی نے "الاوسط" (3006) میں تخریج کیا ہے۔ اسے خالد، قیس بن عباد سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن خالد نے قیس بن عباد کا زمانہ نہیں پایا (منقطع ہے)۔
ويشهد له بهذا اللفظ حديث أنس بن مالك عند أحمد 19/ (11963)، وابن ماجه (977)، والنسائي (8253)، وابن حبان (7258)، قال: كان رسول الله ﷺ يحبُّ أن يليه المهاجرون والأنصار في الصلاة ليأخذوا عنه. وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: ان الفاظ کے ساتھ اس کی تائید (شاہد) انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کرتی ہے جو احمد (19/ 11963)، ابن ماجہ (977)، نسائی (8253) اور ابن حبان (7258) میں ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار آپ کے قریب ہوں تاکہ وہ آپ سے (دین) سیکھ سکیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔