المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
413. لَا يَقُومُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ إِلَّا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ
پہلی صف میں صرف مہاجرین اور انصار ہی کھڑے ہوں گے
حدیث نمبر: 5406
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكرَم، حدَّثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق: أنَّ رسول الله ﷺ آخَى بين أصحابِه، فآخَى بينَ أُبي بن كعب وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل (1) .
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا۔ سیدنا ابی بن کعب اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5406]
حدیث نمبر: 5407
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا الحسن بن بِشر البَجَلي، حدَّثنا الحكَم بن عبد الملك، عن قَتَادةَ، عن قيس بن عُبَادٍ، قال: شهدتُ المدينةَ، فلما أقيمتِ الصلاةُ تَقدّمتُ فقمتُ في الصفِّ الأول، فخرج عمر بن الخطاب، فشَقَّ الصُّفوفَ ثم تقدَّم، وخرج معه رجلٌ آدَمُ خفيفُ اللِّحيةِ، فنظر في وُجُوه القوم، فلما رآني دَفَعَني وقام مكاني، واشتدَّ ذلك عليَّ، فلما انصرف التفتَ إليَّ فقال: لا يَسُؤْك ولا يَحزُنُك، أشَقَّ عليك؟ إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يقومُ في الصفِّ الأولِ إِلَّا المُهاجرون والأنصار"، فقلت: مَن هذا؟ فقالوا: أبَيُّ بن كعب (2) .
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
هذا حديث تفرَّد به الحكَم بن عبد الملك عن قَتَادةَ، وهو صحيحُ الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5323 - صحيح
سیدنا قیس بن عبادہ فرماتے ہیں: میں مدینہ شریف میں حاضر ہوا، جب نماز کے لئے اقامت ہو گئی، میں اگلی صف میں آ گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے آ گئے، ان کے ہمراہ ایک شخص تھا جس کی داڑھی میں بال کم تھے، انہوں نے آتے ہی لوگوں کی جانب دیکھا، جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو انہوں نے مجھے دھکا دے کر پیچھے کر دیا اور میری جگہ پر خود کھڑے ہو گئے، ان کا یہ عمل مجھے بہت ناگوار گزرا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ میری جانب متوجہ ہو کر بولے: میں نے تمہارے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تمہیں برا نہیں لگنا چاہئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن رکھا ہے کہ صف اول میں صرف مہاجرین اور انصار کھڑے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ“ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث قتادہ سے روایت کرنے میں حکم بن عبدالملک منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5407]
حدیث نمبر: 5408
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا السَّرِيّ بن يحيى، حدَّثنا قَبِيصة، حدَّثنا سُفيان، عن أسلَمَ المِنْقَري، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه (1) ، عن أُبي بن كعب، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُنزلت علَيَّ سورةٌ وأُمرتُ أن أُقرِئَكَها"، قال: قلتُ: أسُمِّيتُ لك؟ قال:"نعم". قلت لأُبيٍّ: أفرِحْتَ بذلك يا أبا المُنذِر؟ قال: وما يَمنَعُني والله تعالى وتبارك يقول: (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وبَرَحمَتِهِ فَبِذلِكَ فَلْتَفْرَحُوا (2) ) [يونس:58] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5324 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5324 - صحيح
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی ابزیٰ اپنے والد کے ذریعے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں وہ سورت تمہیں پڑھاؤں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو میرا نام لے کہ بتایا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوالمنذر! کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوئی؟ انہوں نے کہا: مجھے بھلا کیوں نہ خوشی ہو گی، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے فضل اور رحمت ملنے پر خوش ہونے کا حکم دیا ہے: {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا} [يونس: 58] ”تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے“ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5408]