🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
443. حَدِيثُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ يَوْمِ بَدْرٍ
غزوۂ بدر سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5494
وأخبرني أبو أحمد التَّمِيمي، حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن الحُسين، حدثنا عمرو بن زُرارة، قال: أخبرنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، حدثني حُسين بن عبد الله، عن عِكرمة، قال: قال أبو رافع: كنت غلامًا للعباس بن عبد المُطّلب، وكان الإسلامُ دَخَلَنا أهل البيت، فأسلم العباسُ، وأسلمت أمُّ الفَضل، وأسلمتُ، وكان العباسُ يَهابُ قومَه ويَكْرَه خِلافَهم، وكان يَكتُم إسلامه (1) . ولم يَزِدْ أبو أحمد في هذا الإسناد على هذا المتن، وأتى به مُرسَلًا، هذا الذي انتهى إلينا من الأخبار التي تدل على تقدُّم إسلامِ العباس بن عبد المُطّلب قبل بَدْرٍ، فاسمع الآنَ الأخبار التي تُضَادُّها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5407 - حسين بن عبد الله واه
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ہم اہلِ بیت (عباس کے گھرانے) میں اسلام داخل ہو چکا تھا، چنانچہ سیدنا عباس، ام الفضل اور میں اسلام لا چکے تھے، مگر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنی قوم سے ڈرتے تھے اور ان کی مخالفت کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ اپنا اسلام چھپاتے تھے۔
ابو احمد نے اس سند میں صرف یہی متن ذکر کیا ہے اور اسے مرسل روایت کیا ہے، یہ وہ تمام خبریں ہیں جو ہمیں پہنچیں اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے، اب وہ خبریں سماعت فرمائیں جو اس کے برعکس ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقه،» [ترقيم الرساله 5494] [ترقيم الشركة 5448] [ترقيم العلميه 5407]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف كسابقه

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5494 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ حدیث کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 646 عن زياد بن عبد الله - وهو البكائي - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ" 1/ 646 میں زیاد بن عبد اللہ (بکائی) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
بأطول ممّا هنا بنحو الرواية المتقدمة قبله.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ یہاں موجود روایت سے زیادہ طویل ہے اور اس سے پہلے گزرنے والی روایت کی طرح ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5494 in Urdu