🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
451. العباس أجود قريش كفا
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ قریش میں سب سے زیادہ سخی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5505
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، حدثني كَثِير بن العباس بن عبد المُطّلب قال: قال العباسُ: شهدتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فلَزِمتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب رسول الله ﷺ، فلم نُفارقه، ورسولُ الله ﷺ على بغلةٍ له بيضاءَ أهداها له فَرُوةُ بن نُفَاثَة (1) الجُذَامِي، فلما التَقَى المسلمون والكفارُ وَلَّى المسلمون مُديرين، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يَركُضُ بَعْلتَه قِبَلَ الكفار، قال العباس: وأنا آخذٌ بِلِجَام بغلةِ رسولِ الله ﷺ أكُفُّها إرادة أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ بركاب رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ:"أَيْ عباسُ، نادِ أصحابَ السَّمُرةِ"، قال: فواللهِ لَكَأنّما عَطْفتُهم حين ما سَمِعُوا صوتي عطفة البقَرِ على أولادها، فقالوا: يا لَبَّيْكَاهُ يا لَبَّيْكَاهُ. قال: فاقتَتَلُوا هم والكفارُ، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشرَ الأنصار، ثم قُصرت الدَّعوةُ على بني الحارث بن الخَزرج، فقالوا: يا بني الحارث بن الخزرج، يا بني الحارث بن الخزرج، فنظر رسولُ الله ﷺ وهو على بَغْلَتِه كالمُتطاول عليها إلى قتالهم، فقال رسول الله ﷺ:: هذا حينَ حَمِيَ الوَطِيسُ"، قال: ثم أخَذَ رسولُ الله ﷺ حَصَيَاتٍ فرمى بهنَّ في وجوه الكُفّار، ثم قال:"انهَزَمُوا وربِّ محمّدٍ"، فذهبتُ أنظُرُ، فإذا القتالُ على هَيْئَتِه فيما أَرَى، فما هو إلَّا أن رَمَاهم رسولُ الله ﷺ بحَصَياتِه، فما زِلتُ أَرى حَدَّهم كَلِيلًا، وأمرهم مُدبرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5418 - على أخرجه مسلم
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اپنے بیضاء خچر پر سوار تھے، جو کہ فروہ بن نعامہ جذامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کافروں کی مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ (کمزور اعصاب والے) مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سخت حالات میں بھی) اپنے خچر کو کفار کی جانب ایڑھ لگائی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام میرے ہاتھ میں تھی اور میں جان بوجھ کر اس کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ وہ کفار کی صفوں میں جلدی نہ پہنچ سکے۔ اور ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکابیں تھامے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! بیعت رضوان کے شرکاء کو بلاؤ، میں نے ان کو آواز دی، اللہ کی قسم! لگتا تھا کہ جب انہوں نے میری آواز سنی تو کسی چیز نے ان کا منہ پکڑ کر واپس دھکیل دیا ہو جیسے گائے اپنی بچھیا کو واپس لاتی ہے۔ انہوں نے میری آواز پر کہا: ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر ان لوگوں نے خوب جم کر لڑائی کی۔ اور انصار کو ان لفظوں میں پکارا گیا تھا یا گروه انصار، اے گروہ انصار پھر یہ بلاوا صرف انصار تک محدود کر دیا گیا۔ ان کویوں پکارا گیا اے گروہ انصار، اے گروہ انصار۔ پھر یہ دعوت صرف بنی حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی اور انہوں نے اے بنی حارث بن خزرج، اے بنی حارث بن خزرج کہہ کر آوازیں دیں۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر پر سوار حالت میں سر اونچا کر کے ان کی لڑائی کا نظارا کیا تو فرمایا: یہ گھمسان کی جنگ کا وقت ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کنکریاں پکڑ کر کفار کے چہروں کی جانب پھینکیں پھر فرمایا: وہ شکست کھا گئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم! پھر میں جنگ کا منظر دیکھنے کے لئے گیا اس وقت میرے دیکھنے میں تو جنگ ابھی اپنی اسی صورت پر قائم تھی لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ان کی جانب پھینک دیں تو اس کے بعد وہ کمزور ہونا شروع ہو گئے اور بالآخر وہ لوگ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5505]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5505 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من "تلخيص المستدرك"، وفي (ز): نفاقة، وهو تصحيف ولعلها كانت في الأصل نعامة، ثم أُعجمت بعد ذلك، وفي المطبوع: نعامة، وأشار النووي إلى أنَّ الروايتين في اسمه قد رُويتا في "صحيح مسلم"، ثم قال: والصحيح المعروف الأول؛ يعني نفاثة، بنون مضمومة ثم فاء مخففة ثم ألف ثم ثاء مثلثة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) یہ نام "تلخیص المستدرک" سے درست کیا گیا ہے۔ نسخہ (ز) میں "نفاقة" ہے جو کہ تصحیف (غلطی) ہے، شاید اصل میں یہ "نعامۃ" تھا پھر نقطوں میں ردوبدل ہوگیا۔ مطبوعہ نسخے میں "نعامۃ" ہے۔ امام نووی نے اشارہ کیا ہے کہ صحیح مسلم میں یہ دونوں روایتیں آئی ہیں، پھر فرمایا: "صحیح اور معروف پہلا نام ہے"؛ یعنی "نُفَاثَة" (نون پر پیش، فا خفیف، پھر الف اور آخر میں ثائے مثلثہ کے ساتھ)۔
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "ابن وہب" سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں اور "یونس" سے مراد یونس بن یزید الایلی ہیں۔
وأخرجه مسلم (1775) عن أبي الطاهر أبي الطاهر أحمد بن عمرو السَّرْح، والنسائي (8599) عن يونس بن عبد الأعلى، كلاهما عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کو امام مسلم (1775) نے ابو الطاہر احمد بن عمرو السرح سے، اور نسائی (8599) نے یونس بن عبد الأعلیٰ سے، اور ان دونوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور) استدراک کرنا ان کا وہم ہے (کیونکہ یہ تو صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وقد تقدم مختصرًا برقم (5192) من طريق سفيان بن عيينة عن الزهري.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے قبل مختصر طور پر حدیث نمبر (5192) کے تحت سفیان بن عیینہ عن الزہری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وعَطْفتُهم، أي: رَجْعتُهم.
📝 نوٹ / توضیح: "عَطْفَتُهُمْ" کا معنی ہے: ان کی واپسی (پلٹنا)۔
والوَطِيس: مثل التَّنُّور يُختَبز فيه، وقولهم: حمي الوطيس، كناية عن الوطيس، كناية عن شدة الحرب.
📝 نوٹ / توضیح: "الْوَطِيس": تندور کی طرح ہوتا ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ محاورہ "حَمِيَ الْوَطِيسُ" (تندور گرم ہوگیا) جنگ کی شدت سے کنایہ ہے۔
وحدَّهم كليلًا: أي: قوّتهم ضعيفة.
📝 نوٹ / توضیح: "حَدُّهُمْ كَلِيلًا": یعنی ان کی قوت و طاقت کمزور پڑ گئی۔