🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. كان لا يتوضأ بعد الغسل
رسولُ اللہ ﷺ غسل کے بعد دوبارہ وضو نہیں فرماتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأتُ على شَرِيك. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الرَّبيع، حدثنا إسماعيل بن زكريا؛ قالا: حدثنا حُرَيث بن أبي مَطَر، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ كان يَستَدفئُ بها بعد الغُسْل (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشواهده عن سعيد بن المسيّب وعُرْوة (1) عن عائشة، والطريق إليهما فاسد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 549 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد ان سے گرمائش حاصل فرمایا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 556]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 556 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لضعف حريث بن أبي مطر. شريك: هو ابن عبد الله النخعي، وأبو الربيع: هو سليمان بن داود العَتَكي الزَّهْراني.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "حریث بن ابی مطر" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: شریک سے مراد "ابن عبداللہ النخعی" اور ابوربیع سے مراد "سلیمان بن داؤد العتکی الزہرانی" ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (580) عن ابن أبي شيبة، عن شريك، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (580) میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے شریک بن عبداللہ کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (123) من طريق وكيع، عن حريث، به. وقال: هذا حديث ليس بإسناده بأس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (123) میں وکیع بن جراح کے طریق سے حریث بن ابی مطر سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ اس کی سند میں کوئی حرج نہیں (متابعات کی بنا پر)۔
(1) في النسخ الخطية: وعبدة، وليس في هذه الطبقة من اسمه عبدة يروي عن عائشة، ولعلَّ الصواب ما أثبتنا. ولم نقف على هذين الطريقين فيما بين أيدينا من المصادر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "وعبدہ" لکھا ہے، جبکہ اس طبقے میں اس نام کا کوئی راوی نہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہو، لہٰذا درست وہی ہے جو ہم نے متن میں درج کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: دستیاب مصادر میں ہمیں یہ دو طرق نہیں مل سکے۔