🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
494. لا طاعة لمن عصى الله تعالى
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5625
حدثني أبو عمرو بن إسماعيل، حَدَّثَنَا يعقوب بن إسحاق المِهْرَجاني، حدثني أحمد بن عبد الوهاب بن نَجْدة، حَدَّثَنَا أبو المُغيرة، حَدَّثَنَا بِشر بن عبد الله بن يَسَار (1) ، حدثني عُبادة بن نُسَيّ، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن عُبادة بن الصامت، قال: كان رسولُ الله ﷺ شُغِلَ، فإذا قدم الرجلُ وقد أسلَمَ على يدِ رسول الله ﷺ دَفَعَهُ إلى رجل منّا ليُعلِّمَه القرآنَ، فدفع إليَّ رسولُ الله ﷺ رجلًا كان معي في البيت، وكنتُ أُقرِئه القرآنَ، فرأى أنَّ لي عليه حقًّا، فأهدى إليَّ قوسًا ما رأيتُ أجودَ منها ولا أحسنَ منها عِطَافًا، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: ما تَرى يا رسولَ الله فيها، فقال:"جَمْرَةٌ بَين كَتِفَيكَ تَقلَّدْتَها؛ أو تَعَلَّقْتَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5527 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بہت زیادہ ہوتی تھیں اس لئے جب کوئی شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہم میں سے کسی ایک کے پاس بھیج دیتے، تاکہ ہم اس کو قرآن پاک سکھائیں، اسی طرح ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس بھیجا، میں اس کو قرآن کریم سکھاتا رہا، اس بناء پر وہ سمجھتا تھا کہ میرا اس پر کوئی حق ہے چنانچہ اس نے مجھے ایک کمان تحفہ میں دی، میں نے اس سے زیادہ اچھی کمان کبھی نہیں دیکھی۔ میں وہ کمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کیا کمال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک انگارہ ہے جو تم دو کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5625]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5625 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحف في النسخ الخطية إلى: بشار، والمثبت على الصواب من "تلخيص المستدرك" للذهبي.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تصحیف کا شکار ہو کر "بشار" بن گیا ہے، جبکہ "تلخیص المستدرک" للذہبی سے درست نام کا اثبات کیا گیا ہے۔
(2) إسناده حسنٌ من أجل بشر بن عبد الله بن يَسَار، فهو صدوق حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند بشر بن عبد اللہ بن یسار کی وجہ سے "حسن" ہے، کیونکہ وہ صدوق اور حسن الحدیث راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 37 / (22766) عن أبي المغيرة - وهو عبد القدوس بن الحجّاج الخولاني - بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اسے احمد 37 / (22766) نے ابو مغیرہ (یہ عبد القدوس بن حجاج خولانی ہیں) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (3417) من طريق بقية بن الوليد، عن بشر بن عبد الله، به. وقد تقدَّم بنحوه برقم (2308) من طريق مغيرة بن زياد عن عُبادة بن نُسَيّ عن الأسود بن ثعلبة، عن عبادة بن الصامت. هكذا بذكر الأسود بن ثعلبة بدلٌ جنادة بن أبي أمية، ومغيرة بن زياد عنده أوهام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3417) نے بقیہ بن ولید کے طریق سے بشر بن عبد اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہی روایت اس سے قبل رقم (2308) کے تحت مغیرہ بن زیاد کے طریق سے گزر چکی ہے جو عبادہ بن نُسی سے، وہ اسود بن ثعلبہ سے اور وہ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وہاں جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے "اسود بن ثعلبہ" کا ذکر ہے، اور مغیرہ بن زیاد کے پاس کچھ اوہام (غلطیاں) ہیں۔
والعِطاف: بكسر العين، يقال: العِطف، بغير ألف: سِيَة القوس، ولها عِطْفان: وهو ما ثُني من طرفيها.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "العِطاف" (عین کے کسرہ/زیر کے ساتھ)، جسے بغیر الف کے "العِطف" بھی کہا جاتا ہے، اس کا معنی "سِیَة القوس" (کمان کا کنارہ) ہے، اور کمان کے دو "عِطفان" (کنارے) ہوتے ہیں، یعنی وہ حصہ جو اس کے دونوں طرف سے مڑا ہوا ہوتا ہے۔