المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
494. لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں
حدیث نمبر: 5625
حدثني أبو عمرو بن إسماعيل، حَدَّثَنَا يعقوب بن إسحاق المِهْرَجاني، حدثني أحمد بن عبد الوهاب بن نَجْدة، حَدَّثَنَا أبو المُغيرة، حَدَّثَنَا بِشر بن عبد الله بن يَسَار (1) ، حدثني عُبادة بن نُسَيّ، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن عُبادة بن الصامت، قال: كان رسولُ الله ﷺ شُغِلَ، فإذا قدم الرجلُ وقد أسلَمَ على يدِ رسول الله ﷺ دَفَعَهُ إلى رجل منّا ليُعلِّمَه القرآنَ، فدفع إليَّ رسولُ الله ﷺ رجلًا كان معي في البيت، وكنتُ أُقرِئه القرآنَ، فرأى أنَّ لي عليه حقًّا، فأهدى إليَّ قوسًا ما رأيتُ أجودَ منها ولا أحسنَ منها عِطَافًا، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: ما تَرى يا رسولَ الله فيها، فقال:"جَمْرَةٌ بَين كَتِفَيكَ تَقلَّدْتَها؛ أو تَعَلَّقْتَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5527 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5527 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بہت زیادہ ہوتی تھیں اس لئے جب کوئی شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہم میں سے کسی ایک کے پاس بھیج دیتے، تاکہ ہم اس کو قرآن پاک سکھائیں، اسی طرح ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس بھیجا، میں اس کو قرآن کریم سکھاتا رہا، اس بناء پر وہ سمجھتا تھا کہ میرا اس پر کوئی حق ہے چنانچہ اس نے مجھے ایک کمان تحفہ میں دی، میں نے اس سے زیادہ اچھی کمان کبھی نہیں دیکھی۔ میں وہ کمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کیا کمال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک انگارہ ہے جو تم دو کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5625]
حدیث نمبر: 5626
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الهَيثم البَلَدي، حَدَّثَنَا محمد بن كثير المِصِّيصي، حَدَّثَنَا عبد الله بن واقِد، عن عبد الله (1) ابن عثمان بن خُثَيم، عن أبي الزُّبَير، عن جابر، عن عُبادة بن الصامت: أنه دَخَل على عثمانَ بن عَفّان، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"سَيَلِيكُم أمراءُ بَعدِي، يُعرِّفُونُكم ما تُنكِرُون، ويُنكِرون عليكم ما تَعرِفُون، فمن أدركَ ذلكَ منكم فلا طاعَةَ لمن عَصَى الله" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه زهيرُ بن معاوية ومسلمُ بن خالد الزَّنْجي عن عبد الله بن عُثمان بن خُثَيم عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة (1) ، بزياداتٍ فيه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه زهيرُ بن معاوية ومسلمُ بن خالد الزَّنْجي عن عبد الله بن عُثمان بن خُثَيم عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة (1) ، بزياداتٍ فيه:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہیں ایسی چیزیں بتائیں گے جن کا تم انکار کرتے ہو اور ایسی چیزوں کا انکار کریں گے جن کو تم خوب پہچانتے ہو، تم میں سے جو شخص ان کو پائے تو اللہ تعالیٰ کے نافرمان کی اطاعت کرنا تم پر واجب نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو زہیر بن معاویہ اور مسلم بن خالد زنجی نے اسماعیل بن عبید بن رفاعہ کے واسطے سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے روایت کیا ہے البتہ اس میں کچھ اضافہ ہے۔ زہیر کی روایت کردہ حدیث یہ ہے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5626]
حدیث نمبر: 5627
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حَدَّثَنَا علي بن الحسين بن الجُنيد، حَدَّثَنَا المُعافَى بن سُليمان الحَرّاني، حَدَّثَنَا زهير [حَدَّثَنَا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم] (1) عن إسماعيل بن عُبيد (2) . وأما حديث مُسلم بن خالد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5528 - تفرد به عبد الله بن واقد وهو ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5528 - تفرد به عبد الله بن واقد وهو ضعيف
زہیر نے اسماعیل بن عبید کے حوالے سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ وَاَمَّا حَدِیْثُ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ اور مسلم بن خالد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5627]
حدیث نمبر: 5628
فأخبرَنَاه أبو عَون محمد بن ماهَان الجَزّار بمكة، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا سعيد بن منصور، حَدَّثَنَا مُسلِم بن خالد [عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم] (1) عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة، عن أبيه: أنَّ عُبادة بن الصامِت قامَ قائمًا في وَسَطِ دارِ أميرِ المؤمنين عثمانَ بن عفّان، فقال: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ محمدًا أبا القاسم يقول:"سَيَلِي أُمورَكُم من بَعدي رجالٌ يُعرِّفونكم ما تُنكِرُون، ويُنكِرون عليكم ما تَعرِفُون، فلا طاعةَ لمن عَصَى الله"، فلا تَغْبِنُوا (2) أَنفُسَكم، فوالذي نفسي بيده إنَّ معاوية مِن أولئك، فما راجَعَه عثمانُ حرفًا (3) . وقد رُوي هذا الحديثُ بإسناد صحيح على شرط الشيخين في وُرُود عبادةَ بن الصامت على عُثمانَ بن عفان مُتَظلِّمًا بمتنٍ مُختَصِرٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5530 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5530 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مسلم بن خالد نے اسماعیل بن عبید بن رفاعہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، امیرالمومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حویلی کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے ابوالقاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد تمہارے امور کے ایسے لوگ ذمہ دار بن جائیں گے جو تمہیں ایسی باتیں سمجھانے کی کوشش کریں گے جو تم جانتے ہی نہیں ہو اور تم پر ایسی چیزوں کا انکار کریں گے جن کو تم پہچانتے ہو، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے، تم پر اس کی اطاعت لازم نہیں ہے۔ تم اپنے آپ کو (ان کی اطاعت میں) تھکا نہ دینا۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ بیشک معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں میں سے ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے کسی ایک بھی حرف کی پکڑ نہیں کی۔ ٭٭ یہی حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح اسناد کے ہمراہ بھی مروی ہے اس میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر میں مظلوم بن کر آنے کا ذکر موجود ہے اور اس کا متن مذکورہ حدیث سے مختصر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5628]