المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
511. رجوع الزبير عن معركة الجمل
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 5676
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني (3) ، حدثنا جعفر بن سُليمان، عن عبد الله بن محمد الرَّقَاشي، عن جدّه عبد الملك بن مُسلم (4) ، عن أبي جَرْوة المازِني، قال: سمعت عليًّا وهو يُناشِد الزُّبيرَ قال: أَنشُدُك الله يا زبيرُ، أما سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: إنك تُقاتِلُني وأنت لي ظالمٌ؟ قال: بلى، ولكني نَسيتُ (1) .
ابوجروہ مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو قسمیں دے دے کر پوچھ رہے تھے کہ اے زبیر میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں تم بتاؤ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ بے شک تم مجھے سے لڑو گے اور اس لڑائی میں تم مجھ پر ظلم کرنے والے ہو گے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے سنا تو ہے لیکن میں یہ بات بھول گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5676]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5676 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) القَرْني بالقاف والراء الساكنة نسبة إلى قرية بين قُطْرُبُل والمَزْرَفة غربي بغداد. انظر "تاريخ بغداد" للخطيب 9/ 243 وقال في اسم هذا الرجل: خالد بن أبي يزيد. وقيل: خالد بن يزيد، والصواب: ابن أبي يزيد، واسمه بَهْبُذان.
📝 نوٹ / توضیح: (3) "القرنی" (قاف اور ساکن راء کے ساتھ) یہ بغداد کے مغرب میں قطربل اور مزرفہ کے درمیان ایک گاؤں کی طرف نسبت ہے۔ دیکھیے خطیب کی "تاریخ بغداد" 9/ 243۔ انہوں نے اس شخص کے نام کے بارے میں کہا: یہ "خالد بن ابی یزید" ہے۔ بعض نے "خالد بن یزید" کہا ہے، لیکن درست "ابن ابی یزید" ہے اور ان کا نام "بہبوذان" ہے۔
(4) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: مسلمة.
📝 نوٹ / توضیح: (4) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "مسلمہ" بن گیا ہے۔
(1) قوي لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ روایت اپنے غیر (شواہد) کی وجہ سے "قوی" ہے (قوی لغیرہ)، لیکن یہ مخصوص سند پچھلی سند کی طرح "ضعیف" ہے۔
وأخرجه العقيلي في "الضعفاء" (964) عن بشر بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عقیلی نے "الضعفاء" (964) میں بشر بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه العقيلي أيضًا (843) عن محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ، عن خالد بن أبي يزيد القَرْني، به.
📖 حوالہ / مصدر: نیز عقیلی نے ہی (843) میں محمد بن اسماعیل بن سالم الصائغ سے، انہوں نے خالد بن ابی یزید القرنی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔