المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
511. رُجُوعُ الزُّبَيْرِ عَنْ مَعْرَكَةِ الْجَمَلِ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 5671
أخبرنا عبد الباقي بن قانِع ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى بن حماد البَرْبَري، حَدَّثَنَا أبو السُّكَين زكريا بن يحيى الطائي، حَدَّثَنَا عمُّ أَبي (4) زَحْرُ بن حِصْن، قال: حدثني جدّي حُمَيد بن مُنهِبٍ، قال: حجَجْتُ في السنة التي قُتل فيها عثمانُ، فصادفْتُ طلحةَ والزبيرَ وعائشةَ بمكةَ، فلما سارُوا إلى البصرة سِرتُ معهم، وسار عليُّ بن أبي طالب إليهم حتَّى التَقَوا، وذلك يومُ الجَمَل، فاقتتلوا قتالًا شديدًا، وأَخذ بخِطَام الجَمَل يومئذ سبعون رجلًا، وذكر الحديثَ بطوله. وقال في آخره: وولّى الزُّبَيرُ مُنهزِمًا، فأدركَه ابن جُرمُوزٍ، وهو رجلٌ من بني تَميمٍ، فقتَلَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حمید بن منہب فرماتے ہیں: میں نے اس سال حج کیا جس سال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ اس موقع پر مکہ مکرمہ میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ میری اچانک ملاقات ہو گئی۔ جب یہ لوگ بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کی جانب روانہ ہو گئے اور دونوں گروہوں کی جمل کے دن جنگ ہو گئی اور بہت گھمسان کا رن پڑا۔ اس دن ستر آدمی اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں فرمایا: سیدنا زبیر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن بنی تمیم کے ایک جرموز نامی ایک شخص نے ان کو وادی سباع میں شہید کر ڈالا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5671]
حدیث نمبر: 5672
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا عثمان بن خُرَّزاذَ الأَنطاكي، حَدَّثَنَا رَبيعة بن الحارث، حدثني محمد بن سليمان العابدُ، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال عليّ للزُّبير: أما تَذكُر يومَ كنتُ أنا وأنتَ في سَقِيفةِ قوم من الأنصار، فقال لك رسول الله ﷺ:"أَتُحِبُّه؟" فقلتَ: وما يَمنَعُني؟ قال:"أمَا إنك ستَخْرُجُ عليه وتُقاتِلُه وأنتَ ظالمٌ"؟ قال: فرَجَعَ الزُّبيرُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5573 - الحديث فيه نظر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5573 - الحديث فيه نظر
اسماعیل بن ابی حازم کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد نہیں؟ جب آپ اور میں انصاریوں کے ایک خیمے میں موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم اس (علی) سے محبت کرتے ہو؟ تو آپ نے جواباً کہا تھا: مجھے اس سے کون سی چیز منع کرتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تم اس کے خلاف بغاوت کرو گے اور اس سے جنگ کرو گے اور اس وقت تم حد سے بڑھنے والے ہو گے۔ راوی کہتے ہیں؟ یہ بات سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5672]
حدیث نمبر: 5673
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد بن عبد الملك الرَّقَاشي، عن جَدّه عبد الملك، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود الدِّيليّ، قال: شهدتُ الزُّبَيرَ خرج يريدُ عليًّا فقال له عليٌّ: أَنشُدُك الله، هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول:"تُقاتِلُه وأنت له ظَالمٌ"؟ فقال: لم أذكُر، ثم مضى الزُّبَير مُنصَرِفًا (1) .
هذا حديث صحيح عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، فقد روى عنه يزيدُ بن صُهَيب الفَقيرُ وفَضْلُ بن فَضَالة في إسنادٍ واحدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5574 - صحيح
هذا حديث صحيح عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، فقد روى عنه يزيدُ بن صُهَيب الفَقيرُ وفَضْلُ بن فَضَالة في إسنادٍ واحدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5574 - صحيح
ابوحرب بن ابوالاسود دیلی فرماتے ہیں: میں نے زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” تم اس (علی) سے لڑو گے اور تم حد سے بڑھنے والے ہو گے “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔ لیکن پھر وہ واپس لوٹ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث ابوحرب بن ابی الاسود دیلی کی سند کے ہمراہ صحیح ہے، اور انہی سے یزید بن صہیب الفقیر اور فضل بن فضالہ نے ایک ہی اسناد کے ہمراہ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5673]
حدیث نمبر: 5674
حَدَّثَنَا بذلك أبو عَمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر العَدْل المأمُونُ من أصلِ كتابه، حَدَّثَنَا عبدُ الله بن محمد بن سَوّار الهاشِمي، حَدَّثَنَا مِنْجابُ بن الحارث، حَدَّثَنَا عبد الله بن الأجْلَح، حدثني أبي، عن يزيدَ الفَقيرِ. قال منجابٌ: وسمعتُ فَضْل بن فَضَالة يُحدِّث به جميعًا عن أبي حَرْب بن أبي الأسود الدِّيْلي، قال: شهدتُ عليًّا والزبير، لما رَجَعَ الزُّبَيرُ على دابّته يشُقّ الصُّفُوف، فعَرَضَ له ابنُه عبدُ الله، فقال: ما لك؟ فقال: ذَكَر لي عليٌّ حديثًا سمعتُه من رسولِ الله ﷺ يقولُ:"لَتُقاتِلنَّه وأنتَ ظالمٌ له"، فلا أُقاتِلُه، قال: وللقتالِ جئتَ، إنما جئتَ لتُصلحَ بين الناس، ويُصلحَ اللهُ هذا الأمرَ بك، قال: قد حلفتُ أن لا أقاتِلَ، قال: فأعتِقْ غلامَك جَرْجِسَ، وقف حتَّى تُصلِح بين الناس، قال: فأعتَقَ غُلامَه جَرْجِس، ووقف، فلما اختلف أمرُ الناسِ ذهب على فَرسِه (1) . وقد رُويَ إقرارُ الزُّبَيرِ لعليٍّ ﵄ بذلك من غير هذه الوجوهِ والرواياتِ:
یزید بن صہیب الفقیر اور منجاب دونوں نے فضل بن فضالہ کے حوالے سے ابوحرب بن الاسود دیلی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ملا ہوں، جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار ہو کر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس لوٹے تو ان کا بیٹا عبداللہ ان کے سامنے آیا اور کہنے لگا: آپ کو کیا ہوا؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک حدیث یاد کرا دی جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس (علی) سے جنگ کرے گا اور اس جنگ میں تو ظلم کرنے والا ہو گا۔ اس لئے میں اس سے جنگ نہیں کروں گا۔ ان کے بیٹے نے کہا: میں تو جنگ کے لئے آیا ہوں، اور میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ تم لوگوں کے درمیان صلح کروا دو اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ پر اس معاملہ کی صلح کروائے گا۔ میں تو قسم اٹھا چکا ہوں کہ جنگ نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا: تو تم اپنے غلام جرجس کو آزاد کر دو اور یہیں ٹھہرے رہو حتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان صلح کرا دے۔ راوی کہتے ہیں؟ انہوں نے اپنے غلام جرجس کو آزاد کیا اور وہیں ٹھہر گئے، لیکن لوگوں میں اختلاف مزید بڑھ گیا۔ تو آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے اقرار ان وجوہ اور روایات کے علاوہ بھی منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5674]
حدیث نمبر: 5675
أخبرني أبو الوليد الإمام وأبو بكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قَطَن بن نُسَير، حدثنا جعفر بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن محمد الرَّقَاشي، حدثني جدي، عن أبي جَرْوة (1) المازِني، قال: سمعت عليًّا والزُّبيرّ، وعليٌّ يقول له: نَشَدتُك باللهِ يا زبيرُ، أما سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: إنك تُقاتِلُني وأنت لي ظالِمٌ؟ قال: بلى، ولكن نَسيتُ (2) .
ابوجروہ مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو گفتگو کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو کہہ رہے تھے: اے زبیر رضی اللہ عنہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا؟” بے شک تو مجھ سے لڑے گا اور اس لڑائی میں تو مجھ پر ظلم کرنے والا ہو گا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ میں نے سنا تو ہے لیکن میں بھول گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5675]
حدیث نمبر: 5676
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا خالد بن يزيد القَرْني (3) ، حدثنا جعفر بن سُليمان، عن عبد الله بن محمد الرَّقَاشي، عن جدّه عبد الملك بن مُسلم (4) ، عن أبي جَرْوة المازِني، قال: سمعت عليًّا وهو يُناشِد الزُّبيرَ قال: أَنشُدُك الله يا زبيرُ، أما سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول: إنك تُقاتِلُني وأنت لي ظالمٌ؟ قال: بلى، ولكني نَسيتُ (1) .
ابوجروہ مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو قسمیں دے دے کر پوچھ رہے تھے کہ اے زبیر میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں تم بتاؤ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ بے شک تم مجھے سے لڑو گے اور اس لڑائی میں تم مجھ پر ظلم کرنے والے ہو گے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے سنا تو ہے لیکن میں یہ بات بھول گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5676]
حدیث نمبر: 5677
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا مُطَيَّن، حدثنا عمر بن محمد الأَسَدي، حدثني أبي، حدثنا شَريك، عن العباس بن ذَرِيح (2) ، عن مُسلم بن نُذَير (3) ، قال: كنا عند عليٍّ فجاء ابن جُرمُوزٍ يَستأذِنُ عليه، فقال عليٌّ: أتقتُلُ ابنَ صفيّةَ تَفخُّرًا؟ ائذَنُوا له وبَشِّرُوه بالنارِ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لكل نبيٍّ حَوَاريٌّ، وإنَّ الزُّبيرَ حَوَاريَّ وابنُ عَمَّتي" (4) .
سیدنا مسلم بن نذیر فرماتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ ان کے پاس جرموز نے آ کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم صفیہ کے بیٹے کو قتل کر کے اس پر فخر کرو گے؟ اس کو اجازت دے دو اور اس کو دوزخ کی خوشخبری دے دو (یعنی سیدنا علی نے ان کو سختی سے منع کر دیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کی اجازت نہ دی۔ شفیق) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خبردار ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور زبیر میرا حواری اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5677]
حدیث نمبر: 5678
فحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سلَمة، عن عاصم، عن زرِّ بن حُبيش، قال: قيل لعليّ بن أبي طالب: إنَّ قاتِلَ الزُّبَيرِ بالبابِ، فقال عليٌّ: ليَهنِكَ قاتلَ ابن صفيَّة النارُ، سمعتُ رسولُ الله ﷺ يقول:"لكل نبيٍّ حَوَاريٌّ، وإنَّ حَوَارِيَّ الزُّبيرُ" (1) .
سیدنا زر بن حبیش فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ زبیر کا قاتل دروازے پر آیا ہوا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صفیہ کے بیٹے کے قاتل تجھے دوزخ مبارک ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر نبی کے حواری ہوتے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5678]