🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
513. ذِكْرُ مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5685
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، قال: قَدِمَ طلحةُ بن عُبيد الله بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم (1) بن مُرّة من الشام بعدما رجع النبيُّ ﷺ من بدرٍ، فكَلَّم النبيَّ ﷺ: في سَهْمِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"لك سَهمُك" قال: وأَجري يا رسولَ الله؟ قال:"ولكَ أجرُك" (2) .
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدر سے واپسی کے بعد ملک شام سے تشریف لائے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مالِ غنیمت میں) اپنے حصے کے بارے میں کلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارا حصہ تمہارے لیے (ثابت) ہے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرا اجر بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تمہارے لیے تمہارا اجر بھی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5685]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ليس بهم بأس، لكنه مرسلٌ، وانظر ما سلف برقم (5683).» [ترقيم الرساله 5685] [ترقيم الشركة 5631]

الحكم على الحديث:
حديث حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5685 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: تميم.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "تمیم" بن گیا ہے۔
(2) حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ليس بهم بأس، لكنه مرسلٌ، وانظر ما سلف برقم (5683).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن" ہے، اور اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے۔ پچھلی روایت نمبر (5683) ملاحظہ کریں۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (359) من طريق زكريا بن الخليل التُّسْتَري، عن إبراهيم بن المنذر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (359) میں زکریا بن خلیل التستری کے طریق سے، انہوں نے ابراہیم بن المنذر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (345) عن يعقوب بن حميد بن كاسب، وابن عساكر 25/ 67 من طريق هارون بن موسى الفَرْويّ، كلاهما عن محمد بن فُليح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (345) میں یعقوب بن حمید بن کاسب سے، اور ابن عساکر 25/ 67 نے ہارون بن موسیٰ الفروی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں محمد بن فلیح سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 292، وابن عساكر 25/ 67 من طريق إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة عن عمَّه موسى بن عقبة، فذكره لم يذكر فيه ابنَ شهابٍ الزهري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی 6/ 292 اور ابن عساکر 25/ 67 نے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ کے طریق سے، انہوں نے اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس میں "ابن شہاب زہری" کا ذکر نہیں کیا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5685 in Urdu