🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
514. إخبار الراهب بخروج نبينا صلى الله عليه وآله وسلم
ایک راہب کی طرف سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5687
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، حدثني إبراهيم بن المُنذر (4) ، عن عبد العزيز بن عِمران، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة، قال: كان طلحةُ بن عُبيد الله أبيضَ يَضرِبُ إلى الحُمْرة، مَربُوعًا هو إلى القِصَر أقربُ، رَحْبَ الصَّدرِ، عَرِيضَ المَنكِبَين، إذا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جميعًا، ضَخْمَ القَدَمين، حَسَنَ الوَجْهِ، دَقِيقَ العِرْنِينِ، إذا مشى أسرَعَ، وكان لا يُغيِّر شَعْرَه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5588 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں: طلحہ بن عبیداللہ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، خوش طبع تھے، (قد درمیانہ تھا بلکہ) تقریباً چھوٹا ہی قد تھا، سینہ چوڑا تھا، کندھے کشادہ تھے، کسی جانب متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر اسی طرف دیکھتے، پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ خوبصورت تھا، ناک پتلی تھی، چلنے میں تیزی کرتے تھے، آپ بالوں کو (مہندی وغیرہ کے ساتھ) نہیں رنگتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5687]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5687 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الجنيد، وإنما الصحيح المنذر، فهو إبراهيم بن المنذر الحِزامي، كما في سائر مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الجنید" بن گیا ہے، صحیح "المنذر" ہے، یہ "ابراہیم بن المنذر الحزامی" ہیں جیسا کہ تخریج کے تمام مصادر میں ہے۔
(1) إسناده ضعيف، عبد العزيز بن عمران -وهو ابن عبد العزيز الزهري- وإسحاق بن يحيى بن طلحة ضعيفان.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ عبد العزیز بن عمران (ابن عبد العزیز الزہری) اور اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ دونوں ضعیف ہیں۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (1341)، والطبراني في "الكبير" (191)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (366)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 25/ 63 من طريق علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابہ" (1341)، طبرانی نے "الکبیر" (191)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (366) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 25/ 63 میں علی بن عبد العزیز کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔